Khizr Barni

خضر برنی

خضر برنی کی غزل

    قابل دید یہ بھی منظر ہے

    قابل دید یہ بھی منظر ہے ہر خوشی غم کا ایک دفتر ہے سوچتا ہوں یہی مرا گھر ہے کس کے جلووں سے اب منور ہے یاد جاناں ارے معاذ اللہ جیسے پہلو میں ایک نشتر ہے ان سے ہر چند رسم و راہ نہیں سلسلہ غم کا پھر برابر ہے کیسے ہو مستفیض پیشانی سنگ دل جب کہ خود ترا در ہے یک بیک ہنس پڑا ہے ...

    مزید پڑھیے

    زخم دل اچھا ہوا پہلو بدل جانے کے بعد

    زخم دل اچھا ہوا پہلو بدل جانے کے بعد دل کی دھڑکن مٹ گئی آنسو نکل جانے کے بعد وعدۂ رنگیں سے ہوگا ہائے کیا خاک اہتمام آرزو کے پھول چٹکی سے مسل جانے کے بعد کیا کریں خون طرب کی سرخیٔ افسانہ کو رنگ و بو کی رائیگاں گھڑیوں کے ٹل جانے کے بعد مے انڈیلی بھی جو میناؤں میں ساقی نے تو ...

    مزید پڑھیے

    اشک آنکھوں میں نہ تھے دید کا سودا تو نہ تھا

    اشک آنکھوں میں نہ تھے دید کا سودا تو نہ تھا عشق سے پہلے کسی طور تقاضا تو نہ تھا اپنے ہی سایہ سے ڈرتا ہوں الٰہی توبہ اس طرح سے کبھی اندیشۂ فردا تو نہ تھا ان سے پہلے بھی چمن میں تھی سحر کی رونق باد صرصر کی جوانی کا نظارا تو نہ تھا پہلے بھی چاند ستارے تھے فلک پر موجود گیسوئے شب کو ...

    مزید پڑھیے

    کلی کلی کے بجا رازدار ہیں ہم لوگ

    کلی کلی کے بجا رازدار ہیں ہم لوگ چمن کو فخر ہے جن پر وہ خار ہیں ہم لوگ لہو سے اپنے گلستاں کو سبزہ زار کیا بہت خلوص کے آئینہ دار ہیں ہم لوگ حقیر جان کے ٹھکرا رہے ہیں اہل چمن چمن میں اپنی جگہ خود بہار ہیں ہم لوگ کچھ ایسا گردش دوراں کا دیکھتے ہیں فسوں کہ آج اہل گلستاں پہ بار ہیں ہم ...

    مزید پڑھیے

    کرم ہو یا ستم سر اپنا خم یوں بھی ہے اور یوں بھی

    کرم ہو یا ستم سر اپنا خم یوں بھی ہے اور یوں بھی ترا دیوانہ تو ثابت قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی جفا ہو یا وفا اس کا کرم یوں بھی اور یوں بھی نوازش روز و شب اور دم بہ دم یوں بھی ہے اور یوں بھی بھلا دیں یا کریں ہم یاد غم یوں بھی ہے اور یوں بھی کسی کے ہجر میں خود چشم نم یوں بھی ہے اور یوں ...

    مزید پڑھیے

    جفا کے بعد ہوا ہے مگر ملال تو ہے

    جفا کے بعد ہوا ہے مگر ملال تو ہے خوشا نصیب انہیں پھر مرا خیال تو ہے عدو کی بزم طرب میں شریک کیا ہوتے مزاج دوست میں اب تک بھی اشتعال تو ہے زباں پہ حرف و حکایات کیا ضروری ہیں گریباں چاک دکھانا ہی عرض حال تو ہے کسی کی راہ محبت میں گامزن ہونا حیات کا یہی زرین اک مآل تو ہے جنون شوق ...

    مزید پڑھیے

    اک نئی صبح کا آغاز ہے انجام کے بعد

    اک نئی صبح کا آغاز ہے انجام کے بعد پھر وہی سلسلۂ عشق ہے الزام کے بعد جانے کیا ہوگا مری سعیٔ طلب کا حاصل ذہن میں کچھ نہیں محفوظ ترے نام کے بعد صحن گلشن میں بہاروں کا نشاں تک بھی نہیں خاک اڑتی ہے فقط گردش ایام کے بعد صبح سے کرب و اذیت کا یہ عالم توبہ درد کچھ اور سوا ہوتا ہے ہر شام ...

    مزید پڑھیے

    عشق میں کیا کام کرتی عقل و دانائی کی بات

    عشق میں کیا کام کرتی عقل و دانائی کی بات دو قدم آگے چلی عزت سے رسوائی کی بات وقت مشکل غیر کیا اپنے بھی دشمن بن گئے کہہ گیا ہے جوش میں دیوانہ گہرائی کی بات کام کرتا ہے تصور کام آتی ہے نظر بے سبب ہوتی نہیں ہے جلوہ آرائی کی بات مسکراتا ہوں تو آنکھوں میں مچل جاتے ہیں اشک درد میں گھل ...

    مزید پڑھیے