Khizr Barni

خضر برنی

خضر برنی کے تمام مواد

8 غزل (Ghazal)

    قابل دید یہ بھی منظر ہے

    قابل دید یہ بھی منظر ہے ہر خوشی غم کا ایک دفتر ہے سوچتا ہوں یہی مرا گھر ہے کس کے جلووں سے اب منور ہے یاد جاناں ارے معاذ اللہ جیسے پہلو میں ایک نشتر ہے ان سے ہر چند رسم و راہ نہیں سلسلہ غم کا پھر برابر ہے کیسے ہو مستفیض پیشانی سنگ دل جب کہ خود ترا در ہے یک بیک ہنس پڑا ہے ...

    مزید پڑھیے

    زخم دل اچھا ہوا پہلو بدل جانے کے بعد

    زخم دل اچھا ہوا پہلو بدل جانے کے بعد دل کی دھڑکن مٹ گئی آنسو نکل جانے کے بعد وعدۂ رنگیں سے ہوگا ہائے کیا خاک اہتمام آرزو کے پھول چٹکی سے مسل جانے کے بعد کیا کریں خون طرب کی سرخیٔ افسانہ کو رنگ و بو کی رائیگاں گھڑیوں کے ٹل جانے کے بعد مے انڈیلی بھی جو میناؤں میں ساقی نے تو ...

    مزید پڑھیے

    اشک آنکھوں میں نہ تھے دید کا سودا تو نہ تھا

    اشک آنکھوں میں نہ تھے دید کا سودا تو نہ تھا عشق سے پہلے کسی طور تقاضا تو نہ تھا اپنے ہی سایہ سے ڈرتا ہوں الٰہی توبہ اس طرح سے کبھی اندیشۂ فردا تو نہ تھا ان سے پہلے بھی چمن میں تھی سحر کی رونق باد صرصر کی جوانی کا نظارا تو نہ تھا پہلے بھی چاند ستارے تھے فلک پر موجود گیسوئے شب کو ...

    مزید پڑھیے

    کلی کلی کے بجا رازدار ہیں ہم لوگ

    کلی کلی کے بجا رازدار ہیں ہم لوگ چمن کو فخر ہے جن پر وہ خار ہیں ہم لوگ لہو سے اپنے گلستاں کو سبزہ زار کیا بہت خلوص کے آئینہ دار ہیں ہم لوگ حقیر جان کے ٹھکرا رہے ہیں اہل چمن چمن میں اپنی جگہ خود بہار ہیں ہم لوگ کچھ ایسا گردش دوراں کا دیکھتے ہیں فسوں کہ آج اہل گلستاں پہ بار ہیں ہم ...

    مزید پڑھیے

    کرم ہو یا ستم سر اپنا خم یوں بھی ہے اور یوں بھی

    کرم ہو یا ستم سر اپنا خم یوں بھی ہے اور یوں بھی ترا دیوانہ تو ثابت قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی جفا ہو یا وفا اس کا کرم یوں بھی اور یوں بھی نوازش روز و شب اور دم بہ دم یوں بھی ہے اور یوں بھی بھلا دیں یا کریں ہم یاد غم یوں بھی ہے اور یوں بھی کسی کے ہجر میں خود چشم نم یوں بھی ہے اور یوں ...

    مزید پڑھیے

تمام