خاور اعجاز کے تمام مواد

18 غزل (Ghazal)

    حدود جاں میں حد نارسا سے آیا ہوں

    حدود جاں میں حد نارسا سے آیا ہوں میں اپنے آپ میں لا انتہا سے آیا ہوں چمک رہی ہے جبیں پر سفر کی دھول ابھی زمیں کی دھند میں روشن فضا سے آیا ہوں میں کس کی آنکھ میں تعبیر کی طرح جاگوں سنہرا خواب ہوں اور قرطبہ سے آیا ہوں مری ہتھیلی پہ روشن نجات کا لمحہ میں آج وادیٔ حمد و ثنا سے آیا ...

    مزید پڑھیے

    جو شخص راہ بناتا رہا درختوں میں

    جو شخص راہ بناتا رہا درختوں میں اسی کو چھوڑ گیا راستہ درختوں میں اچھل پڑا تھا جب اک بار جھیل کا پانی بدن چھپاتی پھری تھی ہوا درختوں میں نکل تو آئی کرن آرزو کے جنگل سے الجھ کے رہ گئی لیکن قبا درختوں میں زمانے بھر کی تمازت سے تھا سکوں لیکن عجیب خوف کا احساس تھا درختوں میں کہیں ...

    مزید پڑھیے

    نیا پیمان روشن کر گیا ہے

    نیا پیمان روشن کر گیا ہے وہ آتش دان روشن کر گیا ہے کوئی طاق نظر میں شمع رکھ کر دل ویران روشن کر گیا ہے افق پر ڈوبنے والا ستارا کئی امکان روشن کر گیا ہے مرے کمرے کا اک تاریک گوشہ کوئی مہمان روشن کر گیا ہے مرے دشمن کا ہے احسان مجھ پر مری پہچان روشن کر گیا ہے بہت مدھم سی تھی آفاق ...

    مزید پڑھیے

    اک قطرۂ معنی سے افکار کا دریا ہو

    اک قطرۂ معنی سے افکار کا دریا ہو اے ذرۂ آگاہی اب پھیل کے صحرا ہو رفتہ رہے وابستہ ہر حال دریچے سے فردا کے جھروکوں میں ماضی کا اجالا ہو اے بچھڑی ہوئی ندی کس دشت میں بہتی ہے پھر جانب دریا آ اور شامل دریا ہو آفاق بلندی سے آواز یہ آتی ہے اک عصر میں شامل ہو اک پل سے علاحدہ ہو لمحے کی ...

    مزید پڑھیے

    مقام نور ہو کر رہ گیا ہے

    مقام نور ہو کر رہ گیا ہے وہ ہم سے دور ہو کر رہ گیا ہے چراغ دل بجھا تو تن بدن میں دھواں محصور ہو کر رہ گیا ہے خودی میں بے خودی کو چھو لیا تھا نشہ کافور ہو کر رہ گیا ہے ہوا گھیرے ہوئے ہے طاق شب کو دیا معذور ہو کر رہ گیا ہے جو تارہ خاک سے ہونا تھا ظاہر وہی مستور ہو کر رہ گیا ہے یہ دل ...

    مزید پڑھیے

تمام