Khawar Naqvi

خاور نقوی

  • 1948

خاور نقوی کی غزل

    کبھی زمین کبھی آسماں میں تیرتا ہوں

    کبھی زمین کبھی آسماں میں تیرتا ہوں طلسم نور کے اک اک نشاں میں تیرتا ہوں برنگ ساز کبھی بربطوں سے پھوٹتا ہوں کبھی بہ شکل صدا ارمغاں میں تیرتا ہوں کبھی میں ڈھلتا ہوں کاغذ پہ نقش کی صورت میں لفظ بن کے کسی کی زباں میں تیرتا ہوں کبھی کبھی تو مجھے بھی خبر نہیں ہوتی کہ کس مقام پہ کس کس ...

    مزید پڑھیے