Khawar Ahmad

خاور احمد

خاور احمد کی غزل

    کہیں جلتی اپنی ہی آنچ سے کہیں خوشبوؤں میں بھری ہوئی

    کہیں جلتی اپنی ہی آنچ سے کہیں خوشبوؤں میں بھری ہوئی کوئی شاخ گل تھی کہ آگ تھی مرے بازوؤں میں بھری ہوئی وہ طلسمی رات ابھی تلک مرے جسم و جاں پہ محیط ہے وہ جو رات اتری تھی عرش سے ترے جادوؤں میں بھری ہوئی ترے چشم و لب کی شباہتیں مجھے روز و شب ملیں باغ میں کہیں تتلیوں پہ لکھی ہوئی ...

    مزید پڑھیے

    پھول پہ آ کے بیٹھی تو خود پر اترنا بھول گئی

    پھول پہ آ کے بیٹھی تو خود پر اترنا بھول گئی ایسی مست ہوئی وہ تتلی پر پھیلانا بھول گئی ایسے کھلا وہ پھول سا چہرہ پھیلی سارے گھر خوشبو خط کو چھپا کر پڑھنے والی راز چھپانا بھول گئی کلیوں نے ہر بھونرے، تتلی سے پوچھا ہے اس کا نام باد صبا جس پھول کے گھر سے لوٹ کے آنا بھول گئی اپنے ...

    مزید پڑھیے

    سفیر شام صبح کا نقیب کیسے ہو گیا

    سفیر شام صبح کا نقیب کیسے ہو گیا جو شب کو شب نہ لکھ سکا ادیب کیسے ہو گیا ابھی تو خواب دیکھنے کی عمر تھی مری مگر ابھی سے جاگنا مرا نصیب کیسے ہو گیا اسی کی آب و خاک سے مری نمود ہے تو پھر مرا وطن مرے لیے عجیب کیسے ہو گیا مرے لہو سے جس کے برگ و بار میں بہار ہے وہی شجر مرے لیے صلیب کیسے ...

    مزید پڑھیے

    نہ تیز رو تھے نہ جوئندۂ مقام تھے ہم

    نہ تیز رو تھے نہ جوئندۂ مقام تھے ہم وہ ہم سفر تھا تو کیسے صبا خرام تھے ہم ہجوم سنگ میں کیا ہو سخن طراز کوئی وہ ہم سخن تھا تو کیا کیا نہ خوش کلام تھے ہم بہت قریب سے دیکھے جو اس کے لب تو کھلا کہ ایک عمر سے کیوں اتنے تشنہ کام تھے ہم وہ سارا دور تھا رسوائیوں سے پہلے کا کہ شہر یار تھے ...

    مزید پڑھیے

    اتنے بے مہر موسموں میں بھی اس نے حد کر دی مہربانی کی

    اتنے بے مہر موسموں میں بھی اس نے حد کر دی مہربانی کی کیا مہمان مجھ مسافر کو اور پھر دل سے میزبانی کی اس کے انداز سے جھلکتا تھا کوئی کردار داستانوں کا اس کی آواز سے بکھرتی تھی کوئی خوشبو کسی کہانی کی شام خاموش تھی سو اس نے بھی گفتگو سے گریز کرتے ہوئے جلتے جذبوں کو رکھا آنکھوں میں ...

    مزید پڑھیے

    میں جس خواب میں رہتا ہوں پہلے اس خواب تک آیا وہ

    میں جس خواب میں رہتا ہوں پہلے اس خواب تک آیا وہ پھر اس خواب سے دل کے رستے میری کتاب تک آیا وہ مے خانے تک جانے کا پھر ہوش بھلا کس کو رہتا جس مستی میں ساتھ مرے اس شہر شراب تک آیا وہ کتنی پیاس اور کتنی مسافت ان آنکھوں میں لکھی تھی ایک سراب سے نکلا تو اک اور سراب تک آیا وہ اس کے بعد تو ...

    مزید پڑھیے