کہیں جلتی اپنی ہی آنچ سے کہیں خوشبوؤں میں بھری ہوئی
کہیں جلتی اپنی ہی آنچ سے کہیں خوشبوؤں میں بھری ہوئی کوئی شاخ گل تھی کہ آگ تھی مرے بازوؤں میں بھری ہوئی وہ طلسمی رات ابھی تلک مرے جسم و جاں پہ محیط ہے وہ جو رات اتری تھی عرش سے ترے جادوؤں میں بھری ہوئی ترے چشم و لب کی شباہتیں مجھے روز و شب ملیں باغ میں کہیں تتلیوں پہ لکھی ہوئی ...