ہیجان میں تلاش سکوں کر رہا ہوں میں
ہیجان میں تلاش سکوں کر رہا ہوں میں یوں اپنے غم کو اور فزوں کر رہا ہوں میں وہ سن رہے ہیں اور تبسم ہے زیر لب ان سے بیان حال زبوں کر رہا ہوں میں اب اس سے بڑھ کے اور ہو وحشت کا کیا ثبوت تالیف نسخہ ہائے جنوں کر رہا ہوں میں اک دشمن وفا سے بڑھائی ہے رسم و راہ خود اپنی آرزوؤں کا خوں کر رہا ...