Khar Dehlavi

خار دہلوی

اردو کی مشترکہ تہذیب کے نمائندہ شاعر،پنڈت آنند موہن جیوتشی ،گلزار دہلوی کے بھائی

One of the most prominent symbols of Urdu's composite culture at Delhi. Elder brother of Gulzar Dehlavi.

خار دہلوی کی غزل

    ہیجان میں تلاش سکوں کر رہا ہوں میں

    ہیجان میں تلاش سکوں کر رہا ہوں میں یوں اپنے غم کو اور فزوں کر رہا ہوں میں وہ سن رہے ہیں اور تبسم ہے زیر لب ان سے بیان حال زبوں کر رہا ہوں میں اب اس سے بڑھ کے اور ہو وحشت کا کیا ثبوت تالیف نسخہ ہائے جنوں کر رہا ہوں میں اک دشمن وفا سے بڑھائی ہے رسم و راہ خود اپنی آرزوؤں کا خوں کر رہا ...

    مزید پڑھیے

    دنیا کے ہیں نہ دین کے دلبر کے ہو گئے

    دنیا کے ہیں نہ دین کے دلبر کے ہو گئے ہم دل سے کلمہ گو کسی کافر کے ہو گئے اٹھے نہ بیٹھ کر کبھی کوئے حبیب سے اس در پے کیا گئے کہ اسی در کے ہو گئے اے چشم یار مان گئے تیرے سحر کو دل دے کے معتقد ترے منتر کے ہو گئے ہم عرض حال کر نہ سکے اف رے رعب حسن جاتے ہی ان کے سامنے پتھر کے ہو گئے اے ...

    مزید پڑھیے

    ہم کو محروم کرم اس کی جفا نے رکھا

    ہم کو محروم کرم اس کی جفا نے رکھا زیست سے تنگ کسی تنگ قبا نے رکھا سچ تو یہ ہے کہ دعا نے نہ دوا نے رکھا ہم کو زندہ ترے دامن کی ہوا نے رکھا حسن والے تو بہت اور ہیں دنیا میں مگر ان کو یکتائے زماں ان کی ادا نے رکھا حسرت دید نہ شرمندۂ تکمیل ہوئی تیرے جلووں نے کہاں ہوش ٹھکانے رکھا ظلم ...

    مزید پڑھیے

    اسی کی داستانیں ہیں اسی کی قصہ خوانی ہے

    اسی کی داستانیں ہیں اسی کی قصہ خوانی ہے وہ لطف خاص جو مجھ پر ترا اے یار جانی ہے نہ جا ظالم ابھی تو تشنۂ دیدار ہیں آنکھیں ذرا دم لے ابھی تو داستان غم سنانی ہے محبت زلف کا آسیب جادو ہے نگاہوں کا محبت فتنۂ محشر بلائے ناگہانی ہے بجھی حسرت کا نوحہ ہے دل مرحوم کا ماتم بہ الفاظ دگر یہ ...

    مزید پڑھیے

    سوزش غم بہ روئے کار آئی

    سوزش غم بہ روئے کار آئی آہ بھی لب پہ شعلہ بار آئی چشم گریاں کی آبیاری سے دل کے داغوں پہ پھر بہار آئی دست وحشت کی کار فرمائی تا بہ دامان تار تار آئی تیرے دیوانے کیا بھلا جانیں کب خزاں آئی کب بہار آئی کسمپرسی کا اف رے یہ عالم یاد ہم کو جفائے یار آئی دیکھو وہ چھائی اودی اودی ...

    مزید پڑھیے

    دیکھتا رہتا ہوں میں تیری غزالی آنکھیں

    دیکھتا رہتا ہوں میں تیری غزالی آنکھیں دیکھ تو تو بھی ذرا میری سوالی آنکھیں چشم آہو سے نہ نرگس سے ہے تشبیہ درست ہیں مثال آپ ہی وہ اپنی نرالی آنکھیں برہمی حسن کو کچھ اور جلا دیتی ہے وہ جمالی تیرا چہرہ وہ جلالی آنکھیں آ کے ہر روز تصور میں بنا جاتی ہے ایک رنگین سی تصویر خیالی ...

    مزید پڑھیے

    وہی ہے نفس مضموں صرف تدبیریں بدلتی ہیں

    وہی ہے نفس مضموں صرف تدبیریں بدلتی ہیں حضور دوست کیا کیا اپنی تقریریں بدلتی ہیں یہ نگری حسن والوں کی عجب نگری ہے اے ہم دم کہ اس نگری میں آہوں کی بھی تاثیریں بدلتی ہیں نہ اترا اے دل ناداں کسی کے عہد و پیماں پر کہ قول و فعل کیا لوگوں کی تحریریں بدلتی ہیں خدائی کا اگر کرتے ہیں ...

    مزید پڑھیے

    اس قدر اس کی مدارات ہے ویرانے میں

    اس قدر اس کی مدارات ہے ویرانے میں کوئی تو بات ہے آخر ترے دیوانے میں فیض ساقی سے جو محروم ہیں مے خانے میں جانے کیا ہم سے خطا ہو گئی ان جانے میں وقت کی بات ہے اب اس کے ترستے ہیں لب ''جتنی ہم چھوڑ دیا کرتے تھے پیمانے میں'' میں نے مانا کہ عدو بھی ترا شیدائی ہے فرق ہوتا ہے فدا ہونے میں ...

    مزید پڑھیے

    بہر صورت ہیں ہم شیرینئ گفتار کے صدقے

    بہر صورت ہیں ہم شیرینئ گفتار کے صدقے ترے اقرار کے صدقے ترے انکار کے صدقے خوشا ذوق طلب اس حسرت دیدار کے صدقے ہوئے ہیں بام و در کے روزن و دیوار کے صدقے نوازش ہو نوازے گر نگاہ لطف سے اس کو ترا بیمار تیری نرگس بیمار کے صدقے قدم لے کر کلیجے سے لگاتے ہیں کبھی اس کو کبھی ہوتے ہیں ہم ...

    مزید پڑھیے