Khamosh Ghazipuri

خاموش غازی پوری

خاموش غازی پوری کی غزل

    عمر جلووں میں بسر ہو یہ ضروری تو نہیں

    عمر جلووں میں بسر ہو یہ ضروری تو نہیں ہر شب غم کی سحر ہو یہ ضروری تو نہیں چشم ساقی سے پیو یا لب ساغر سے پیو بے خودی آٹھوں پہر ہو یہ ضروری تو نہیں نیند تو درد کے بستر پہ بھی آ سکتی ہے ان کی آغوش میں سر ہو یہ ضروری تو نہیں شیخ کرتا تو ہے مسجد میں خدا کو سجدے اس کے سجدوں میں اثر ہو یہ ...

    مزید پڑھیے