Khalida Uzma

خالدہ عظمی

خالدہ عظمی کی غزل

    چمن کا حال سناؤ کہ رات کٹ جائے

    چمن کا حال سناؤ کہ رات کٹ جائے تمام رات رلاؤ کہ رات کٹ جائے جنون و عقل شناسا دریدہ دل لوگو کچھ اپنی اپنی سناؤ کہ رات کٹ جائے ترس گئی ہیں نگاہیں کرن کرن کے لیے کوئی سحر کو بتاؤ کہ رات کٹ جائے بچھڑنے والوں کی وہ بولتی ہوئی آنکھیں مجھے نہ یاد دلاؤ کہ رات کٹ جائے اندھیرا رات کا ...

    مزید پڑھیے

    سر چھپانے کے لیے چھت نہیں دی جا سکتی

    سر چھپانے کے لیے چھت نہیں دی جا سکتی ہر کسی کو یہ سہولت نہیں دی جا سکتی سانس لینے کے لیے سب کو میسر ہے ہوا اس سے بڑھ کر تو رعایت نہیں دی جا سکتی تم کو راس آئے نہ آئے مری بستی کی فضا یاں کسی جاں کی ضمانت نہیں دی جا سکتی ایک مدت کے شب و روز لہو ہوتے ہیں طشت میں رکھ کے قیادت نہیں دی جا ...

    مزید پڑھیے

    وہ جس کا ساتھ نبھانے کا حوصلہ نہ ہوا

    وہ جس کا ساتھ نبھانے کا حوصلہ نہ ہوا بچھڑ گیا تو بھلانے کا حوصلہ نہ ہوا ادھر ادھر کے سنائے ہزار افسانے دلوں کی بات سنانے کا حوصلہ نہ ہوا یہ اور بات کہ با حوصلہ ہوں میں پھر بھی نئے چراغ جلانے کا حوصلہ نہ ہوا خلیج کتنے زمانوں کی کر گیا پیدا وہ اک قدم کہ اٹھانے کا حوصلہ نہ ...

    مزید پڑھیے

    سواد غم ہو یا بزم طرب کچھ بھی نہیں ہوتا

    سواد غم ہو یا بزم طرب کچھ بھی نہیں ہوتا زباں مرہم رکھے یا زخم اب کچھ بھی نہیں ہوتا چلے آتے ہیں بے موسم کی بارش کی طرح آنسو بسا اوقات رونے کا سبب کچھ بھی نہیں ہوتا جو ہوتا ہے تو بس اتنا کہ لفظوں کا بھرم ٹوٹے سخن آتا ہے اکثر تا بہ لب کچھ بھی نہیں ہوتا کبھی تھے مہرباں موسم کبھی ساون ...

    مزید پڑھیے

    ہمارے ساتھ عجب ہی معاملہ ہوا ہے

    ہمارے ساتھ عجب ہی معاملہ ہوا ہے ہوا ٹھہر سی گئی ہے دیا جلا ہوا ہے اسی مقام پہ اک قافلہ رکا ہوا ہے جہاں تمہارا مرا راستہ جدا ہوا ہے نہ جانے باد صبا کہہ گئی ہے کان میں کیا کہ پھول شاخ بریدہ پہ بھی کھلا ہوا ہے ملے اک عمر کے بعد اور اس طرح سے ملے وہ چپ ہے اور ہمارا بھی سر جھکا ہوا ...

    مزید پڑھیے

    آ رہا ہے مرے گمان میں کیا

    آ رہا ہے مرے گمان میں کیا کوئی رہتا تھا اس مکان میں کیا وہ تپش ہے کہ جل اٹھے سائے دھوپ رکھی تھی سائبان میں کیا اک تری دید کی تمنا ہے اور رکھا ہے اس جہان میں کیا کیا ہمیشہ ہی ایسا ہوتا ہے موڑ آتا ہے درمیان میں کیا کی مرے بعد قتل سے توبہ آخری تیر تھا کمان میں کیا گونگی بہری ...

    مزید پڑھیے

    جو کارواں میں ہے شامل نہ رہ گزار میں ہے

    جو کارواں میں ہے شامل نہ رہ گزار میں ہے وہ شخص میری تمناؤں کے دیار میں ہے سحر شناس اندھیرے کہ شب گزیدہ سحر نہ وہ نگاہ میں اپنی نہ یہ شمار میں ہے یہ کیا خلش ہے کہ لو دے رہی ہے جذبوں کو نہ جانے کون سا شعلہ میرے شرار میں ہے بسی ہے سوکھے گلابوں کی بات سانسوں میں کوئی خیال کسی یاد کے ...

    مزید پڑھیے