Khalid Siddiqui

خالد صدیقی

خالد صدیقی کی غزل

    کتنے تفکرات سے آزاد ہو گیا

    کتنے تفکرات سے آزاد ہو گیا وہ آدمی جو اینٹ پہ سر رکھ کے سو گیا سورج ڈھلا تو طاق میں جلتا ہوا دیا تاریکیوں سے بر سر پیکار ہو گیا اپنی غلاظتیں تھیں کہ از راہ التفات سیلاب شہر کے در و دیوار دھو گیا اک دوست سے یہاں بھی ملاقات ہو گئی رہنا یہاں بھی اب مرا دشوار ہو گیا اک اور کھیت پکی ...

    مزید پڑھیے

    ساحلوں سے دور جس دن کشتیاں رہ جائیں گی

    ساحلوں سے دور جس دن کشتیاں رہ جائیں گی چار جانب خالی خالی بستیاں رہ جائیں گی پھر سمندر میں اتر جائے گا پانی بوند بوند جال میں دم توڑتی کچھ مچھلیاں رہ جائیں گی یہ توانا جسم تھک کر ایک دن گر جائے گا کھال کے اندر پھڑکتی پسلیاں رہ جائیں گی باغبانوں کا چمن یوں ہی رہا تو ایک دن باغ ...

    مزید پڑھیے

    یہ کیسی ہجرتیں ہیں موسموں میں

    یہ کیسی ہجرتیں ہیں موسموں میں پرندے بھی نہیں ہیں گھونسلوں میں بھڑک اٹھیں گے شعلے جنگلوں میں اگر جگنو بھی چمکا جھاڑیوں میں یہ کن سوچوں کی دیمک رینگتی ہے مرے ماتھے کی گہری سلوٹوں میں رقم ہے چہرہ چہرہ جو کہانی کن افسانوں میں ہے کن ناولوں میں بہت تنہا ہے وہ اونچی حویلی مرے گاؤں ...

    مزید پڑھیے

    اس شہر طلسمات کا دستور عجب ہے

    اس شہر طلسمات کا دستور عجب ہے ہر شخص فسردہ ہے مگر خندہ بہ لب ہے جیسے گھنے جنگل میں کوئی آگ لگا دے اس شہر میں سورج کا نکلنا بھی غضب ہے بے کار ہے بے معنی ہے اخبار کی سرخی لکھا ہے جو دیوار پہ وہ غور طلب ہے کیا مجھ کو اٹھائے گا کوئی میری جگہ سے پتھر ہوں جو تعمیر کی بنیاد کا رب ہے جو ...

    مزید پڑھیے