Khalid Siddiqui

خالد صدیقی

خالد صدیقی کے تمام مواد

4 غزل (Ghazal)

    کتنے تفکرات سے آزاد ہو گیا

    کتنے تفکرات سے آزاد ہو گیا وہ آدمی جو اینٹ پہ سر رکھ کے سو گیا سورج ڈھلا تو طاق میں جلتا ہوا دیا تاریکیوں سے بر سر پیکار ہو گیا اپنی غلاظتیں تھیں کہ از راہ التفات سیلاب شہر کے در و دیوار دھو گیا اک دوست سے یہاں بھی ملاقات ہو گئی رہنا یہاں بھی اب مرا دشوار ہو گیا اک اور کھیت پکی ...

    مزید پڑھیے

    ساحلوں سے دور جس دن کشتیاں رہ جائیں گی

    ساحلوں سے دور جس دن کشتیاں رہ جائیں گی چار جانب خالی خالی بستیاں رہ جائیں گی پھر سمندر میں اتر جائے گا پانی بوند بوند جال میں دم توڑتی کچھ مچھلیاں رہ جائیں گی یہ توانا جسم تھک کر ایک دن گر جائے گا کھال کے اندر پھڑکتی پسلیاں رہ جائیں گی باغبانوں کا چمن یوں ہی رہا تو ایک دن باغ ...

    مزید پڑھیے

    یہ کیسی ہجرتیں ہیں موسموں میں

    یہ کیسی ہجرتیں ہیں موسموں میں پرندے بھی نہیں ہیں گھونسلوں میں بھڑک اٹھیں گے شعلے جنگلوں میں اگر جگنو بھی چمکا جھاڑیوں میں یہ کن سوچوں کی دیمک رینگتی ہے مرے ماتھے کی گہری سلوٹوں میں رقم ہے چہرہ چہرہ جو کہانی کن افسانوں میں ہے کن ناولوں میں بہت تنہا ہے وہ اونچی حویلی مرے گاؤں ...

    مزید پڑھیے

    اس شہر طلسمات کا دستور عجب ہے

    اس شہر طلسمات کا دستور عجب ہے ہر شخص فسردہ ہے مگر خندہ بہ لب ہے جیسے گھنے جنگل میں کوئی آگ لگا دے اس شہر میں سورج کا نکلنا بھی غضب ہے بے کار ہے بے معنی ہے اخبار کی سرخی لکھا ہے جو دیوار پہ وہ غور طلب ہے کیا مجھ کو اٹھائے گا کوئی میری جگہ سے پتھر ہوں جو تعمیر کی بنیاد کا رب ہے جو ...

    مزید پڑھیے