Khalid Jamal

خالد جمال

خالد جمال کی غزل

    زندگی چاک ہوئی کیا ہو رفو کی صورت

    زندگی چاک ہوئی کیا ہو رفو کی صورت مل گئی خاک میں اب ذوق نمو کی صورت حوصلے کیا ہوئے چڑھتے ہوئے دریاؤں کے ریگزاروں میں کہاں کھو گئی جو کی صورت خواہش سیم بدن سے ہوا وحشت کا نزول نشۂ جسم نے کیا کر دی لہو کی صورت دکھ بھری شام کے نیزے پہ سسکتے ہوئے لوگ ذرے ذرے سے ٹپکتی من و تو کی ...

    مزید پڑھیے

    ذوق نظارہ لیے ہم بھی خبر تک آئے

    ذوق نظارہ لیے ہم بھی خبر تک آئے شب کے پہلو سے اٹھے اور سحر تک آئے بوئے گل باد صبا رقص شرر تک آئے رنگ ہونا تھا ہمیں خون جگر تک آئے ابر رحمت ہے تو شبنم کی طرح سے اترے رنگ خوشبو کی ہوا عرض ہنر تک آئے اس سے پہلے ہی برس جاتا ہے اک ابر کرم پاؤں کی دھول اٹھے اور مرے سر تک آئے کیوں پریشان ...

    مزید پڑھیے

    یہ زمیں میری بھی ہے یہ آسماں میرا بھی ہے

    یہ زمیں میری بھی ہے یہ آسماں میرا بھی ہے روز و شب کے کھیل میں سود و زیاں میرا بھی ہے نا مرادی کے بھنور میں ایک تو ہی تو نہیں ساحل امکاں پہ آخر امتحاں میرا بھی ہے ماہ نو بس ایک تو ہی تو نہیں تیرے سوا قریۂ شب میں چراغ جاں فشاں میرا بھی ہے گونج اٹھی ہے زمیں تا آسماں امروز و شب اس ...

    مزید پڑھیے

    عشق ہے وحشت ہے کیا ہے کچھ پتا تو چاہئے

    عشق ہے وحشت ہے کیا ہے کچھ پتا تو چاہئے کیا کہوں میں اس سے آخر مدعا تو چاہئے درگزر کر میرے مالک تو نظر آتا نہیں سر جھکانے کے لئے کوئی پتا تو چاہئے رات کی پلکیں بھی خالی گھر کے آنگن کی طرح روشنی کے واسطے کوئی دیا تو چاہئے سر خمیدہ شہر میں اس کے حریم ناز تک بوئے گل کے واسطے دست صبا ...

    مزید پڑھیے

    آشنائی ہی سہی اپنی طلب کوئی تو ہو

    آشنائی ہی سہی اپنی طلب کوئی تو ہو اس دیار غیر میں بھی ہم نسب کوئی تو ہو شور گھر تک آ گیا ہے کوچہ و بازار کا کچھ تو ایسا ہو یہاں پہ مہر لب کوئی تو ہو کرب تنہائی لیے آخر کہاں تک جائیے حادثہ ہی ہو اگرچہ بے سبب کوئی تو ہو ساز کے ٹوٹے ہوئے تاروں کو پھر سے جوڑئیے نغمۂ خوش رنگ یا سوز ...

    مزید پڑھیے

    سفر تمام ہوا گرد جستجو بھی گئی

    سفر تمام ہوا گرد جستجو بھی گئی تری تلاش میں نکلی تو آرزو بھی گئی اک انتظار سا تھا برف کے پگھلنے کا پھر اس کے بعد تو امید آب جو بھی گئی طلب کی راہ میں ایسے بھی موڑ آئے ہیں کہ حرف و صوت گیا شوخیٔ گلو بھی گئی یہ برگ و بار کہاں جاذب نظر ٹھہرے تمہارے بعد تو پھولوں سے رنگ و بو بھی ...

    مزید پڑھیے

    وہ عکس خواب ہے پیکر نہیں ہے

    وہ عکس خواب ہے پیکر نہیں ہے شعور ذات سے باہر نہیں ہے اگرچہ آسماں سر پر نہیں ہے زمیں بھی تو مرا بستر نہیں ہے فضا مسموم ہوتی جا رہی ہے مری خاطر مرا ہی گھر نہیں ہے افق کے رنگ ہیں چہرے پہ اس کے شکست خواب کا منظر نہیں ہے فقط میں ہوں ترے مد مقابل مرے پیچھے مرا لشکر نہیں ہے

    مزید پڑھیے

    کسی بت کے شکم سے گر کوئی آذر نکل آئے

    کسی بت کے شکم سے گر کوئی آذر نکل آئے خرد کا بند ٹوٹے اور اک پتھر نکل آئے تقاضے جب بدن کے روح میں ڈھل کر نکل آئے قبا کے بند ٹوٹے اور حسیں بستر نکل آئے زمانہ نا شناسی کا مروت بے خیالی کی نہ جانے کس گلی کس موڑ پر خنجر نکل آئے اگے ہیں خواب زاروں میں مناظر سر تراشی کے سہانی وادیوں میں ...

    مزید پڑھیے

    خواب تو خواب ہیں تعبیر بدل کر دیکھوں

    خواب تو خواب ہیں تعبیر بدل کر دیکھوں اس پہیلی کو ذرا میں بھی تو حل کر دیکھوں اپنے چہرے کی لکیروں سے پریشان نہیں زخم تازہ ہے سو آئینہ سنبھل کر دیکھوں رنگ اور نور سے حیران ہیں آنکھیں میری ان مناظر کو ذرا دور سے چل کر دیکھوں ان فضاؤں میں بکھر جاؤں میں خوشبو کی طرح اس چمن زار سے ...

    مزید پڑھیے

    خیال و خواب سے نکلوں ظہور تک دیکھوں

    خیال و خواب سے نکلوں ظہور تک دیکھوں سفر کے دائرے توڑوں عبور تک دیکھوں مرے لیے ہیں یہ ہفت آسماں و ہفت زمیں تو کس لیے ترے جلوے میں طور تک دیکھوں سمجھ سکا ہوں تجھے بس شعور کی حد تک یہ فکر ہے کہ تجھے لا شعور تک دیکھوں رگیں چٹخ گئیں رشتوں کی شورشیں کیسی صدا لہو کی جو آئے تو دور تک ...

    مزید پڑھیے