Khalid Jamal

خالد جمال

خالد جمال کے تمام مواد

10 غزل (Ghazal)

    زندگی چاک ہوئی کیا ہو رفو کی صورت

    زندگی چاک ہوئی کیا ہو رفو کی صورت مل گئی خاک میں اب ذوق نمو کی صورت حوصلے کیا ہوئے چڑھتے ہوئے دریاؤں کے ریگزاروں میں کہاں کھو گئی جو کی صورت خواہش سیم بدن سے ہوا وحشت کا نزول نشۂ جسم نے کیا کر دی لہو کی صورت دکھ بھری شام کے نیزے پہ سسکتے ہوئے لوگ ذرے ذرے سے ٹپکتی من و تو کی ...

    مزید پڑھیے

    ذوق نظارہ لیے ہم بھی خبر تک آئے

    ذوق نظارہ لیے ہم بھی خبر تک آئے شب کے پہلو سے اٹھے اور سحر تک آئے بوئے گل باد صبا رقص شرر تک آئے رنگ ہونا تھا ہمیں خون جگر تک آئے ابر رحمت ہے تو شبنم کی طرح سے اترے رنگ خوشبو کی ہوا عرض ہنر تک آئے اس سے پہلے ہی برس جاتا ہے اک ابر کرم پاؤں کی دھول اٹھے اور مرے سر تک آئے کیوں پریشان ...

    مزید پڑھیے

    یہ زمیں میری بھی ہے یہ آسماں میرا بھی ہے

    یہ زمیں میری بھی ہے یہ آسماں میرا بھی ہے روز و شب کے کھیل میں سود و زیاں میرا بھی ہے نا مرادی کے بھنور میں ایک تو ہی تو نہیں ساحل امکاں پہ آخر امتحاں میرا بھی ہے ماہ نو بس ایک تو ہی تو نہیں تیرے سوا قریۂ شب میں چراغ جاں فشاں میرا بھی ہے گونج اٹھی ہے زمیں تا آسماں امروز و شب اس ...

    مزید پڑھیے

    عشق ہے وحشت ہے کیا ہے کچھ پتا تو چاہئے

    عشق ہے وحشت ہے کیا ہے کچھ پتا تو چاہئے کیا کہوں میں اس سے آخر مدعا تو چاہئے درگزر کر میرے مالک تو نظر آتا نہیں سر جھکانے کے لئے کوئی پتا تو چاہئے رات کی پلکیں بھی خالی گھر کے آنگن کی طرح روشنی کے واسطے کوئی دیا تو چاہئے سر خمیدہ شہر میں اس کے حریم ناز تک بوئے گل کے واسطے دست صبا ...

    مزید پڑھیے

    آشنائی ہی سہی اپنی طلب کوئی تو ہو

    آشنائی ہی سہی اپنی طلب کوئی تو ہو اس دیار غیر میں بھی ہم نسب کوئی تو ہو شور گھر تک آ گیا ہے کوچہ و بازار کا کچھ تو ایسا ہو یہاں پہ مہر لب کوئی تو ہو کرب تنہائی لیے آخر کہاں تک جائیے حادثہ ہی ہو اگرچہ بے سبب کوئی تو ہو ساز کے ٹوٹے ہوئے تاروں کو پھر سے جوڑئیے نغمۂ خوش رنگ یا سوز ...

    مزید پڑھیے

تمام