Khalid Iqbal Taib

خالد اقبال تائب

خالد اقبال تائب کی غزل

    ختم کب ہوگا سفر مرنے کے بعد

    ختم کب ہوگا سفر مرنے کے بعد اور ہوگا تیز تر مرنے کے بعد وہ سمجھنا بھی سمجھنا کیا ہوا لوگ سمجھیں گے مگر مرنے کے بعد لاکھ دنیا میں ہو کوئی لکھ پتی سب کا حاصل ہے صفر مرنے کے بعد ایک ہی میدان میں لیٹے ہیں سب کیا گدا کیا تاجور مرنے کے بعد کس قدر بے چارگی میں ہیں پڑے کیسے کیسے چارہ گر ...

    مزید پڑھیے

    خاک تھے غنچہ لب اور خواب تھی لہجے کی کھنک

    خاک تھے غنچہ لب اور خواب تھی لہجے کی کھنک جھڑ گیا قبر میں جب حسن سراپا کا نمک وہ جن آنکھوں میں تھی برسات کے منظر کی جھلک اب ان آنکھوں میں سفیدی نہ سیاہی نہ دھنک وہ صراحی سی جو گردن کی ہے ٹوٹی پھوٹی وہ کمر ہی نہ رہی جس میں کہ پیدا ہو لچک قبر کی خاک ہی غازہ ہے وہی زینت ہے واں نہ ...

    مزید پڑھیے

    پوچھتے ہیں یہ شاعری کیا ہے

    پوچھتے ہیں یہ شاعری کیا ہے ہائے ایسی بھی سادگی کیا ہے کیا کسی باغباں سے یہ پوچھا پھول کیا شے ہے یہ کلی کیا ہے یہ صبا کس بلا کا نام ہے اور یہ ردا گل پہ شبنمی کیا ہے فصل گل سے کبھی کیا دریافت چار سو یہ ہری ہری کیا ہے پوچھ لیتے کبھی دھنک سے کہ یہ سات رنگوں کی ساحری کیا ہے

    مزید پڑھیے