Khalid Hasan Qadiri

خالد حسن قادری

خالد حسن قادری کی غزل

    فسانۂ غم دل مختصر نہیں ہوتا

    فسانۂ غم دل مختصر نہیں ہوتا اب اس گلی سے ہمارا گزر نہیں ہوتا ہزار ایسے کہ پھرتے ہیں جو خلاؤں میں مگر اک ہم کہ وطن میں سفر نہیں ہوتا جسے مثیل سمجھتے ہو بے مثال ہے وہ جو ایک بار ہو بار دگر نہیں ہوتا خود اپنا ساتھ بھی ہم کو گراں گزرتا ہے سفر وہی ہے جہاں ہم سفر نہیں ہوتا امیر اس کا ...

    مزید پڑھیے

    آدمی بھی آدمی کا راز داں ہوتا نہیں

    آدمی بھی آدمی کا راز داں ہوتا نہیں بے خبر رہتا ہے لیکن بد گماں ہوتا نہیں زحمتیں یکساں مکان و لا مکاں سے کیا ہوا کیا خلاؤں سے پرے بھی آسماں ہوتا نہیں ہم کہ خود رہرو بھی ہیں رہبر بھی ہیں رہزن بھی ہیں واں پہنچتے ہیں جہاں پر کارواں ہوتا نہیں بڑھ گئے اخوان یوسف سے یہ اخوان ...

    مزید پڑھیے

    بتوں سے کچھ نہ ہوا جو ہوا خدا سے ہوا

    بتوں سے کچھ نہ ہوا جو ہوا خدا سے ہوا دوا سے کچھ نہ بنا جو ہوا دعا سے ہوا بھرم درازئی دامان یار کا نہ رہا عجیب کام مرے دست نارسا سے ہوا دلوں کو صبر و سکوں تو نہ مل سکا لیکن کوئی تو کام تری چشم با حیا سے ہوا لگا دی آگ سی جنگل میں نابکاروں کے یہ فائدہ تو مری آتشیں نوا سے ہوا دلوں کو ...

    مزید پڑھیے

    کہیں گے کس سے ہیں خود اپنی تیغ کے گھائل

    کہیں گے کس سے ہیں خود اپنی تیغ کے گھائل نہ اختیار پہ قابو نہ جبر کے قائل میں خود ہوں اپنی تمنا فریبیوں کا شکار جو دل پہ گزرے گزر جائے پر نہ تو ہو خجل حیات وقفۂ راحت ہے راہ رو کے لیے عدم سے تا بہ عدم ہے سفر کی اک منزل نوید عالم نو دے رہا ہے سیل ارم چھپے ہوئے ہیں سمندر کی تہہ میں ...

    مزید پڑھیے

    جلوۂ نو بہار نے لوٹ لیا لٹا دیا

    جلوۂ نو بہار نے لوٹ لیا لٹا دیا گیسوئے مشکبار نے لوٹ لیا لٹا دیا بزم میں کہہ کے حال دل ان کو کیا ہے مضمحل دیدۂ اشک بار نے لوٹ لیا لٹا دیا ہائے وہ دل فریبیاں حسن نظر فریب کی جلوۂ حسن یار نے لوٹ لیا لٹا دیا پرسش غم پہ ہاتھ سے دامن ضبط چھٹ گیا مہر نگاہ یار نے لوٹ لیا لٹا دیا ان کی ...

    مزید پڑھیے

    وہ ایک شخص کہ جو ساتھ ساتھ پھرتا تھا

    وہ ایک شخص کہ جو ساتھ ساتھ پھرتا تھا نظر جو بدلی تو پھر وہ نظر نہیں آیا پھرا کیے ہیں چہل سال دشت وحشت میں کسی کو یاد ترا رہ گزر نہیں آیا بہت جتایا کسی نے کہ ساتھ ساتھ تھا وہ ہمیں تو یاد کوئی ہم سفر نہیں آیا کہا تھا شام سے پہلے ہی لوٹ آئے گا ہمیں خیال رہا رات بھر نہیں آیا تھکے ...

    مزید پڑھیے

    کچھ نہ خط میں نہ کچھ جواب میں ہے

    کچھ نہ خط میں نہ کچھ جواب میں ہے جو بھی کچھ ہے ترے حساب میں ہے یہ وفا بھی جفا کے باب میں ہے جان میری بھی اک عذاب میں ہے تیرے جلوے سے مہر عالم تاب نور جس طرح ماہتاب میں ہے اپنی ہے اور منزل مقصود آپ کا کوچہ پاتراب میں ہے کچھ نہ سمجھے حقیقت عالم سارا ہنگامہ ایک خواب میں ہے تم نے ...

    مزید پڑھیے

    میرے آئینہ میں تم صورت زیبا دیکھو

    میرے آئینہ میں تم صورت زیبا دیکھو تم نے اب تک جو نہ دیکھا ہو وہ جلوا دیکھو اک جہاں دعوت نظارہ ہے کیا کیا دیکھو حسن دیدار طلب کا بھی تماشا دیکھو جاگتی آنکھوں کے خوابوں کی بھی تعبیریں ہوں خواب کل رات جو دیکھا تھا ادھورا دیکھو ہے وہی مولیٰ وہی اپنا وکیل اور نصیر تم یہود اور ...

    مزید پڑھیے