Khalid Hasan Qadiri

خالد حسن قادری

خالد حسن قادری کے تمام مواد

8 غزل (Ghazal)

    فسانۂ غم دل مختصر نہیں ہوتا

    فسانۂ غم دل مختصر نہیں ہوتا اب اس گلی سے ہمارا گزر نہیں ہوتا ہزار ایسے کہ پھرتے ہیں جو خلاؤں میں مگر اک ہم کہ وطن میں سفر نہیں ہوتا جسے مثیل سمجھتے ہو بے مثال ہے وہ جو ایک بار ہو بار دگر نہیں ہوتا خود اپنا ساتھ بھی ہم کو گراں گزرتا ہے سفر وہی ہے جہاں ہم سفر نہیں ہوتا امیر اس کا ...

    مزید پڑھیے

    آدمی بھی آدمی کا راز داں ہوتا نہیں

    آدمی بھی آدمی کا راز داں ہوتا نہیں بے خبر رہتا ہے لیکن بد گماں ہوتا نہیں زحمتیں یکساں مکان و لا مکاں سے کیا ہوا کیا خلاؤں سے پرے بھی آسماں ہوتا نہیں ہم کہ خود رہرو بھی ہیں رہبر بھی ہیں رہزن بھی ہیں واں پہنچتے ہیں جہاں پر کارواں ہوتا نہیں بڑھ گئے اخوان یوسف سے یہ اخوان ...

    مزید پڑھیے

    بتوں سے کچھ نہ ہوا جو ہوا خدا سے ہوا

    بتوں سے کچھ نہ ہوا جو ہوا خدا سے ہوا دوا سے کچھ نہ بنا جو ہوا دعا سے ہوا بھرم درازئی دامان یار کا نہ رہا عجیب کام مرے دست نارسا سے ہوا دلوں کو صبر و سکوں تو نہ مل سکا لیکن کوئی تو کام تری چشم با حیا سے ہوا لگا دی آگ سی جنگل میں نابکاروں کے یہ فائدہ تو مری آتشیں نوا سے ہوا دلوں کو ...

    مزید پڑھیے

    کہیں گے کس سے ہیں خود اپنی تیغ کے گھائل

    کہیں گے کس سے ہیں خود اپنی تیغ کے گھائل نہ اختیار پہ قابو نہ جبر کے قائل میں خود ہوں اپنی تمنا فریبیوں کا شکار جو دل پہ گزرے گزر جائے پر نہ تو ہو خجل حیات وقفۂ راحت ہے راہ رو کے لیے عدم سے تا بہ عدم ہے سفر کی اک منزل نوید عالم نو دے رہا ہے سیل ارم چھپے ہوئے ہیں سمندر کی تہہ میں ...

    مزید پڑھیے

    جلوۂ نو بہار نے لوٹ لیا لٹا دیا

    جلوۂ نو بہار نے لوٹ لیا لٹا دیا گیسوئے مشکبار نے لوٹ لیا لٹا دیا بزم میں کہہ کے حال دل ان کو کیا ہے مضمحل دیدۂ اشک بار نے لوٹ لیا لٹا دیا ہائے وہ دل فریبیاں حسن نظر فریب کی جلوۂ حسن یار نے لوٹ لیا لٹا دیا پرسش غم پہ ہاتھ سے دامن ضبط چھٹ گیا مہر نگاہ یار نے لوٹ لیا لٹا دیا ان کی ...

    مزید پڑھیے

تمام