Khalid Fatehpuri

خالد فتح پوری

خالد فتح پوری کی غزل

    نہ کمی کوئی ترے ناز میں نہ کمی ہے ذوق نیاز میں

    نہ کمی کوئی ترے ناز میں نہ کمی ہے ذوق نیاز میں تو وفائیں میری ہی پیش کر مرے خون دل کے جواز میں مری خاک میں تری سانس ہے تری روشنی مرے پاس ہے مجھے دل دیا صنم آشنا مرا سر جھکا ہے نماز میں کبھی خط کو تیرے چھپا لیا کبھی اشک آئے تو پی لئے مری زندگی تو گزر گئی اسی پردہ دارئی راز میں کسی ...

    مزید پڑھیے

    مجھ کو یوں مجھ سے ملا دے کوئی

    مجھ کو یوں مجھ سے ملا دے کوئی میں صدا دوں تو صدا دے کوئی میں نے پوچھا تو ہے انجام وفا اب یہ ڈر ہے نہ بتا دے کوئی آرزو یہ ہے کہ خوشبو اپنی میری سانسوں میں بسا دے کوئی اس کے رخسار شفق گوں کی چمک میرے ہونٹوں پہ سجا دے کوئی جو جفا پیار سے تو نے کی ہے اس کو کیوں کر نہ بھلا دے کوئی خون ...

    مزید پڑھیے

    نہ وہ درد ہے نہ وہ رنج ہے نہ ہجوم ظلمت شام ہے

    نہ وہ درد ہے نہ وہ رنج ہے نہ ہجوم ظلمت شام ہے مرے خشک ہونٹوں پہ یک بیک جو چمک اٹھا ترا نام ہے کبھی کہکشاں سے گزر گئے کبھی بزم گل میں اتر گئے جو سمجھ گئے تو ٹھہر گئے ترا در ہی اپنا مقام ہے مرے غم ہیں کتنے عجیب سے وہ ملا کہاں ہے نصیب سے یہاں قرب کی مجھے آرزو وہاں دور ہی سے سلام ہے جو ...

    مزید پڑھیے

    زندگی ختم بھی ہونے پہ کسک باقی ہے

    زندگی ختم بھی ہونے پہ کسک باقی ہے اجڑے گھر میں تری سانسوں کی مہک باقی ہے میرے ہمدم مجھے بیداد سے محروم نہ کر دامن روح میں زخموں کی تپک باقی ہے مجھ کو دو چار گھڑی اور بھی جینے دیجے سسکیوں کی ابھی زخموں میں سنک باقی ہے آس کی شمع پگھلنے کو ہے اب تو آ جا رات باقی ہے ستاروں میں چمک ...

    مزید پڑھیے

    محبت کی علامت ہو گئی ہے

    محبت کی علامت ہو گئی ہے یہ کس بے کس کی رحلت ہو گئی ہے کوئی مقصد نہیں ہے زندگی کا ہمیں جینے کی عادت ہو گئی ہے ابھی تک کیوں یہ پتے ٹوٹتے ہیں ہوا تو کب کی رخصت ہو گئی ہے کوئی طاقت دبا سکتی نہیں اب کہ ذہنوں میں بغاوت ہو گئی ہے جسے میں قتل کر کے خوش ہوا تھا ہر آئینہ وہ صورت ہو گئی ...

    مزید پڑھیے

    دھوکا بھی نہیں تھا کوئی عنواں بھی نہیں تھا

    دھوکا بھی نہیں تھا کوئی عنواں بھی نہیں تھا ایسے میں جئے جانے کا امکاں بھی نہیں تھا کیا جانئے کیا سوچ کے واں ڈوب گئے ہم دریا میں تو اس دم کہیں طوفاں بھی نہیں تھا آباد سرابوں سے سدا اس کا جہاں تھا صحرا مرے دل سا کبھی ویراں بھی نہیں تھا اک بات تھی یہ ہم اسے سوچیں کہ نہ سوچیں ہاں اس ...

    مزید پڑھیے

    شوخ و گستاخ جب انداز صبا ہوتا ہے

    شوخ و گستاخ جب انداز صبا ہوتا ہے تب کہیں جا کے حسیں رنگ قبا ہوتا ہے رنگ بھرنے کی ہیں باتیں سبھی افسانے میں عشق میں کون بھلا کس سے جدا ہوتا ہے جب دہکتے ہوئے ہونٹوں کا تصور ابھرے دل میں سویا ہوا ہر زخم ہرا ہوتا ہے اس سے کیا کہئے سر راہ کوئی بات کبھی گر میں مل جاؤں مجھے ڈھونڈ رہا ...

    مزید پڑھیے