نہ کمی کوئی ترے ناز میں نہ کمی ہے ذوق نیاز میں
نہ کمی کوئی ترے ناز میں نہ کمی ہے ذوق نیاز میں تو وفائیں میری ہی پیش کر مرے خون دل کے جواز میں مری خاک میں تری سانس ہے تری روشنی مرے پاس ہے مجھے دل دیا صنم آشنا مرا سر جھکا ہے نماز میں کبھی خط کو تیرے چھپا لیا کبھی اشک آئے تو پی لئے مری زندگی تو گزر گئی اسی پردہ دارئی راز میں کسی ...