Khalid Fatehpuri

خالد فتح پوری

خالد فتح پوری کے تمام مواد

7 غزل (Ghazal)

    نہ کمی کوئی ترے ناز میں نہ کمی ہے ذوق نیاز میں

    نہ کمی کوئی ترے ناز میں نہ کمی ہے ذوق نیاز میں تو وفائیں میری ہی پیش کر مرے خون دل کے جواز میں مری خاک میں تری سانس ہے تری روشنی مرے پاس ہے مجھے دل دیا صنم آشنا مرا سر جھکا ہے نماز میں کبھی خط کو تیرے چھپا لیا کبھی اشک آئے تو پی لئے مری زندگی تو گزر گئی اسی پردہ دارئی راز میں کسی ...

    مزید پڑھیے

    مجھ کو یوں مجھ سے ملا دے کوئی

    مجھ کو یوں مجھ سے ملا دے کوئی میں صدا دوں تو صدا دے کوئی میں نے پوچھا تو ہے انجام وفا اب یہ ڈر ہے نہ بتا دے کوئی آرزو یہ ہے کہ خوشبو اپنی میری سانسوں میں بسا دے کوئی اس کے رخسار شفق گوں کی چمک میرے ہونٹوں پہ سجا دے کوئی جو جفا پیار سے تو نے کی ہے اس کو کیوں کر نہ بھلا دے کوئی خون ...

    مزید پڑھیے

    نہ وہ درد ہے نہ وہ رنج ہے نہ ہجوم ظلمت شام ہے

    نہ وہ درد ہے نہ وہ رنج ہے نہ ہجوم ظلمت شام ہے مرے خشک ہونٹوں پہ یک بیک جو چمک اٹھا ترا نام ہے کبھی کہکشاں سے گزر گئے کبھی بزم گل میں اتر گئے جو سمجھ گئے تو ٹھہر گئے ترا در ہی اپنا مقام ہے مرے غم ہیں کتنے عجیب سے وہ ملا کہاں ہے نصیب سے یہاں قرب کی مجھے آرزو وہاں دور ہی سے سلام ہے جو ...

    مزید پڑھیے

    زندگی ختم بھی ہونے پہ کسک باقی ہے

    زندگی ختم بھی ہونے پہ کسک باقی ہے اجڑے گھر میں تری سانسوں کی مہک باقی ہے میرے ہمدم مجھے بیداد سے محروم نہ کر دامن روح میں زخموں کی تپک باقی ہے مجھ کو دو چار گھڑی اور بھی جینے دیجے سسکیوں کی ابھی زخموں میں سنک باقی ہے آس کی شمع پگھلنے کو ہے اب تو آ جا رات باقی ہے ستاروں میں چمک ...

    مزید پڑھیے

    محبت کی علامت ہو گئی ہے

    محبت کی علامت ہو گئی ہے یہ کس بے کس کی رحلت ہو گئی ہے کوئی مقصد نہیں ہے زندگی کا ہمیں جینے کی عادت ہو گئی ہے ابھی تک کیوں یہ پتے ٹوٹتے ہیں ہوا تو کب کی رخصت ہو گئی ہے کوئی طاقت دبا سکتی نہیں اب کہ ذہنوں میں بغاوت ہو گئی ہے جسے میں قتل کر کے خوش ہوا تھا ہر آئینہ وہ صورت ہو گئی ...

    مزید پڑھیے

تمام