Khalid Alig

خالد علیگ

خالد علیگ کی غزل

    میں ڈرا نہیں میں دبا نہیں میں جھکا نہیں میں بکا نہیں

    میں ڈرا نہیں میں دبا نہیں میں جھکا نہیں میں بکا نہیں مگر اہل بزم میں کوئی بھی تو ادا شناس وفا نہیں مرے جسم و جاں پہ اسی کے سارے عذاب سارے ثواب ہیں وہی ایک حرف خود آگہی کہ ابھی جو میں نے کہا نہیں نہ وہ حرف و لفظ کی داوری نہ وہ ذکر و فکر قلندری جو مرے لہو سے لکھی تھی یہ وہ قرارداد ...

    مزید پڑھیے