Khaleeq Siddiqui

خلیق صدیقی

خلیق صدیقی کی غزل

    کون بتائے کیا ہے حقیقت اور بنا افسانہ کیا

    کون بتائے کیا ہے حقیقت اور بنا افسانہ کیا دل کی بستی کیا بستی ہے بسنا کیا لٹ جانا کیا برسوں نے جو رشتے جوڑے پل بھر نے وہ توڑ دیے پیارے! اب ٹوٹے ٹکڑوں سے اپنا جی بہلانا کیا آج تو جوں توں کٹ جائے گا کل کی سوچو کیا ہوگا جو گزری سو گزر چکی اترانا کیا پچھتانا کیا کیسا طوفاں کیسی ...

    مزید پڑھیے