Khaleeq Qureshi

خلیق قریشی

خلیق قریشی کی غزل

    ہم نہ ہوں گے تو ہمیں یاد کرو گے یارو

    ہم نہ ہوں گے تو ہمیں یاد کرو گے یارو تذکرے ہوں گے یہی جب بھی ملوگے یارو ہم نے روداد وفا خود سے مرتب کی ہے داستاں پھر یہ کبھی سن نہ سکو گے یارو ہم نہ ہوں گے تو کسے پاؤ گے دل کا محرم ہم نہ ہوں گے تو یہ دکھ کس سے کہو گے یارو محفلیں یونہی رہیں گی یونہی یاروں کے ہجوم لیکن اک بات جسے پھر ...

    مزید پڑھیے