Khaleel Rampuri

خلیل رامپوری

  • - 1993

خلیل رامپوری کے تمام مواد

13 غزل (Ghazal)

    میں جیسا بھی ہوں تیرے سامنے ہوں

    میں جیسا بھی ہوں تیرے سامنے ہوں جو دنیا ہے وہ دے دے سامنے ہوں تری دنیا ہے تو ہر چیز میں ہے جہاں بھی ہوں میں تیرے سامنے ہوں ابھی دن ہے بتا کیا چاہتا ہے ابھی زندہ ہوں تیرے سامنے ہوں فلک کی جگمگاتی چھت ہے سر پر میں حیراں ہوں کہ کس کے سامنے ہوں ہوا چلتی ہے یا گاتا ہے کوئی وہ کون ...

    مزید پڑھیے

    ہرا بھرا تھا کبھی جھاڑ سا بدن میرا

    ہرا بھرا تھا کبھی جھاڑ سا بدن میرا کہ آئنوں میں جھلکتا تھا بانکپن میرا چراغ لے کے مجھے ڈھونڈنے نکلتا تھا مرے بغیر نہ رہتا تھا ہم سخن میرا سیاہیوں کے بھنور سے نکل کے آیا ہوں دھلا رہی ہے اجالوں سے منہ کرن میرا سیاہ پھول کھلا دھوپ کی منڈیروں پر ہوا میں ٹانگ دیا کس نے پیرہن ...

    مزید پڑھیے

    رات کھڑی ہے سر پہ سنہرے دیوں کا تھال لیے

    رات کھڑی ہے سر پہ سنہرے دیوں کا تھال لیے اے من تو بھی عمر بتا دے نقش خیال لیے لمحے یہ بے رنگ پتنگے کب آتے ہیں ہاتھ سارا سارا دن پھرتا ہے سورج جال لیے پھلجھڑیاں سی چھوٹ رہی ہیں شام کے دامن میں کون کھڑا ہے نارنگی سا چہرہ لال لیے آج سمجھ میں آیا اپنی آنکھوں کا مفہوم ہر انسان ہے ...

    مزید پڑھیے

    کب تلک شادابئ فکر و نظر کام آئے گی

    کب تلک شادابئ فکر و نظر کام آئے گی گیلے کپڑے سے ہوا پانی اڑا لے جائے گی بھاگتے گھوڑے کی راسیں کھینچنے سے فائدہ ڈوبتے سورج کی کیا رفتار کم ہو جائے گی ذہن پر پھیلا رکھے ہیں جھینگروں نے دائرے آج جو بھی بات سوچوں گا مجھے الجھائے گی تک رہے ہیں کس کی جانب نجم خیمے گاڑ کر دھوپ نکلے گی ...

    مزید پڑھیے

    یہ جو رشتہ ہے میرا مٹی سے

    یہ جو رشتہ ہے میرا مٹی سے روپ سارا ہے میرا مٹی سے سبزہ کہتا ہے لوٹے جاؤ مجھے دل کشادہ ہے میرا مٹی سے میں ستارا نہیں ہوں سورج ہوں گہرا رشتہ ہے میرا مٹی سے میں تو خود رو درخت ہوں لیکن پیٹ بھرتا ہے میرا مٹی سے مطمئن ہوں کہ فصل اچھی ہے سینہ ٹھنڈا ہے میرا مٹی سے ہر حویلی میں دیپ ...

    مزید پڑھیے

تمام