Khadim Razmi

خادم رزمی

خادم رزمی کی غزل

    خیال و خواب میں دیوار و در بھی ساتھ رکھو

    خیال و خواب میں دیوار و در بھی ساتھ رکھو مسافرت میں رہو اور گھر بھی ساتھ رکھو عجب نہیں کہ شہادت طلب کرے منزل کرو پڑاؤ تو گرد سفر بھی ساتھ رکھو زر و گہر سے بھی بنتی ہیں قامتیں لیکن کوئی سلیقۂ عرض ہنر بھی ساتھ رکھو ہم ایسے لوگ پس گفتگو بھی جانتے ہیں ہمیں ملو تو خلوص نظر بھی ساتھ ...

    مزید پڑھیے

    آن پہنچے ہیں یہ کہاں ہم لوگ

    آن پہنچے ہیں یہ کہاں ہم لوگ اب زمیں ہیں نہ آسماں ہم لوگ کل یقیں بانٹتے تھے اوروں میں اب ہیں خود سے بھی بد گماں ہم لوگ کن ہواؤں کی زد میں آئے ہیں ہو گئے ہیں دھواں دھواں ہم لوگ چپ تو پہلے بھی جھیلتے تھے مگر اس قدر کب تھے بے زباں ہم لوگ کب میسر کوئی کنارہ ہو کب سمیٹیں گے بادباں ہم ...

    مزید پڑھیے

    طوفاں ہی نہیں گھات میں ہوں جس کے بھنور بھی

    طوفاں ہی نہیں گھات میں ہوں جس کے بھنور بھی ملتے ہیں اسی گہرے سمندر سے گہر بھی سہتا ہے جو اک حبس مسلسل کی گرانی ہوتا ہے اسی شہر سے آندھی کا گزر بھی یوں پیار ہے اس سے کہ فقط میں ہی نہیں ہوں مٹی سے بنے ہیں مرے دیوار بھی در بھی گر دیپ جلا کر اسے آگاہ نہ کرتا محفوظ تھا ہر شب کی ہوا سے ...

    مزید پڑھیے