کاوش
نیا دن روز مجھ کو کتنا پیچھے پھینک دیتا ہے یہ آج اندازہ ہوتا ہے کہ میں آہستہ آہستہ ہزاروں میل کی دوری پہ تم سے آ گیا اور اب دنوں سالوں مہینوں کو اکٹھا کر کے گم گشتہ دیار ہو میں بیٹھا ہوں نہ کچھ آگے نہ کچھ پیچھے سوا کچھ وسوسوں کے کچھ خساروں کے کمر بستہ کہیں چلنے کو آگے جس کا واضح کچھ ...