Akhtar Shaikh

اختر شیخ

اختر شیخ کی غزل

    لفظ لکھنا ہے تو پھر کاغذ کی نیت سے نہ ڈر

    لفظ لکھنا ہے تو پھر کاغذ کی نیت سے نہ ڈر اس قدر اظہار کی بے معنویت سے نہ ڈر دیکھ! گلشن میں ابھی شاخ تحیر بانجھ ہے پھول ہونا ہے تو کھلنے کی اذیت سے نہ ڈر ہم رہ موسم سفر کی بستیوں کے درمیاں نقش بر دیوار بارش کی وصیت سے نہ ڈر ایک ہلکی سی صدا تو بن زباں رکھتا ہے تو چار جانب خامشی کی ...

    مزید پڑھیے