Akhtar Saeedi

اختر سعیدی

  • 1958

بسمل سعیدی کے خانوادے کے شاعر اور صحافی، روزنامہ’ جسارت‘ اور ’جنگ‘ سے وابستہ رہے

Poet and journalist, remained associated with daily 'Jasaarat' and 'Jung'

اختر سعیدی کی غزل

    اک عجب عالم ہے دل کا زندگی کی راہ میں

    اک عجب عالم ہے دل کا زندگی کی راہ میں دیکھتا ہوں کچھ کمی سی حسن مہر و ماہ میں اس کے ہوتے بھی میں اک احساس تنہائی میں ہوں جلوہ گر ہے وہ جو مدت سے دل آگاہ میں دور ہو کر مجھ سے چلتی ہے ہوائے جاں فزا جی رہا ہوں پھر بھی ایسے موسم جاں کاہ میں ہر قدم پر کیوں ڈراتی ہے مجھے یہ زندگی یہ جو ...

    مزید پڑھیے

    رواں دواں ہے زندگی چراغ کے بغیر بھی

    رواں دواں ہے زندگی چراغ کے بغیر بھی ہے میرے گھر میں روشنی چراغ کے بغیر بھی تھے جس کی جستجو میں سب حریف کاروان شب وہ راہ ہم نے ڈھونڈ لی چراغ کے بغیر بھی محبتوں کے دیپ ہر قدم پہ میں جلاؤں گا ہے مجھ میں ذوق آگہی چراغ کے بغیر بھی وہ زندگی جو مشعل وفا کی ہم رکاب تھی گزر گئی ہنسی خوشی ...

    مزید پڑھیے

    مدتوں جو رہے بہاروں میں

    مدتوں جو رہے بہاروں میں آج وہ گھر گئے ہیں کانٹوں میں میں کہ صحرا نورد ہوں لیکن پرورش چاہتا ہوں پھولوں میں عکس تیرا دکھائی دیتا ہے بہتے پانی کی نرم لہروں میں کھل گئے خواہشوں کے دروازے پھر بھی کوئی نہیں ہے بانہوں میں جو مہکتے ہیں خوشبوؤں کی طرح لمس تیرا ہے ان گلابوں میں کار ...

    مزید پڑھیے

    کی جستجو تو ایک نیا گھر ملا مجھے

    کی جستجو تو ایک نیا گھر ملا مجھے برسوں کے بعد میرا مقدر ملا مجھے جب تشنگی بڑھی تو مسیحا نہ تھا کوئی جب پیاس بجھ گئی تو سمندر ملا مجھے دنیا مرے خلاف نبرد آزما رہی لیکن وہ ایک شخص برابر ملا مجھے زخم نگاہ زخم ہنر زخم دل کے بعد اک اور زخم تجھ سے بچھڑ کر ملا مجھے نازک خیالیوں کی ...

    مزید پڑھیے

    یہی اک مشغلہ ہے زندگی کا

    یہی اک مشغلہ ہے زندگی کا تعاقب کر رہا ہوں روشنی کا شگوفے پھول بنتے جا رہے ہیں گیا موسم مری دیوانگی کا نہ رکھو خواہش چہرہ نمائی نہ دے گا ساتھ آئینہ کسی کا میں زندہ ہوں وسیلے سے کسی کے وگرنہ مر گیا ہوتا کبھی کا

    مزید پڑھیے