Akhtar Muslimi

اختر مسلمی

روایت کے گہرے شعور کے ساتھ شاعری کرنے کے لیے معروف

Poet known for his deeper understanding of tradition

اختر مسلمی کی غزل

    دریا نظر نہ آئے نہ صحرا دکھائی دے

    دریا نظر نہ آئے نہ صحرا دکھائی دے جوش جنوں ہو جس کو اسے کیا دکھائی دے میں آ گیا کہاں کہ یہ حسرت نظر کو ہے اے کاش اس جگہ کوئی اپنا دکھائی دے خنداں جبیں لبوں پہ ہنسی پرخلوص دل دور طرب میں کوئی تو ایسا دکھائی دے خواہاں ہیں وہ کہ سارا زمانہ ہو ان کے ساتھ اوروں کو چاہتے ہیں کہ تنہا ...

    مزید پڑھیے

    مائل لطف ہے آمادۂ بیداد بھی ہے

    مائل لطف ہے آمادۂ بیداد بھی ہے وہ سراپائے محبت ستم ایجاد بھی ہے شب تنہائی بھی ہے ساتھ تری یاد بھی ہے دل کا کیا حال کہوں شاد بھی ناشاد بھی ہے دولت غم سے ہر اک گوشہ ہے اس کا معمور دل کی دنیا مری آباد بھی برباد بھی ہے بے سبب تو نہیں احساس خلش کا مجھ کو بھولنے والے ترے دل میں مری ...

    مزید پڑھیے

    آنسوؤں کے طوفاں میں بجلیاں دبی رکھنا

    آنسوؤں کے طوفاں میں بجلیاں دبی رکھنا سرد سرد آہوں میں گرمیاں دبی رکھنا کیفیت غم دل کی ہو عیاں نہ چہرے سے پردۂ تبسم میں تلخیاں دبی رکھنا کون سننے والا ہے بے حسوں کی دنیا میں اپنے غم کی سینے میں داستاں دبی رکھنا کس قدر انوکھا ہے شیوہ اہل دنیا کا میٹھی میٹھی باتوں میں تلخیاں ...

    مزید پڑھیے

    نالے مرے جب تک مرے کام آتے رہیں گے

    نالے مرے جب تک مرے کام آتے رہیں گے اے ذوق نظر وہ لب بام آتے رہیں گے اے ذوق طلب تو جو سلامت ہے تو کیا غم لب تک مرے خود جام پہ جام آتے رہیں گے دل زندہ اگر ہو تو پھر اے زیست کے طالب ہر گام پہ جینے کے پیام آتے رہیں گے منزل کی تمنا ہے تو ٹھکرا کے نکل جا صیاد لیے دانہ و دام آتے رہیں ...

    مزید پڑھیے

    کہاں جائیں چھوڑ کے ہم اسے کوئی اور اس کے سوا بھی ہے

    کہاں جائیں چھوڑ کے ہم اسے کوئی اور اس کے سوا بھی ہے وہی درد دل بھی ہے دوستو وہی درد دل کی دوا بھی ہے مری کشتی لاکھ بھنور میں ہے نہ کروں گا میں تری منتیں یہ پتا نہیں تجھے ناخدا مرے ساتھ میرا خدا بھی ہے یہ ادا بھی اس کی عجیب ہے کہ بڑھا کے حوصلۂ نظر مجھے اذن دید دیا بھی ہے مرے دیکھنے ...

    مزید پڑھیے

    تم اپنی زباں خالی کر کے اے نکتہ ورو پچھتاؤ گے

    تم اپنی زباں خالی کر کے اے نکتہ ورو پچھتاؤ گے میں خوب سمجھتا ہوں اس کو جو بات مجھے سمجھاؤ گے اک میں ہی نہیں ہوں تم جس کو جھوٹا کہہ کر بچ جاؤ گے دنیا تمہیں قاتل کہتی ہے کس کو کس کو جھٹلاؤ گے یا راحت دل بن کر آؤ یا آفت دل بن کر آؤ! پہچان ہی لوں گا میں تم کو جس بھیس میں بھی تم آؤ گے ہر ...

    مزید پڑھیے

    دل ہی رہ طلب میں نہ کھونا پڑا مجھے

    دل ہی رہ طلب میں نہ کھونا پڑا مجھے ہاتھ اپنی زندگی سے بھی دھونا پڑا مجھے اک دن میں ہنس پڑا تھا کسی کے خیال میں تا عمر اتنی بات پہ رونا پڑا مجھے اک بار ان کو پانے کی دل میں تھی آرزو سو بار اپنے آپ کو کھونا پڑا مجھے برباد ہو گیا ہوں مگر مطمئن ہے دل شرمندۂ کرم تو نہ ہونا پڑا ...

    مزید پڑھیے

    مرے واسطے جہاں میں کوئی دل کشی نہیں ہے

    مرے واسطے جہاں میں کوئی دل کشی نہیں ہے کہ ترے بغیر جینا کوئی زندگی نہیں ہے تری ذات کے علاوہ مجھے اور چہیے کیا تو اگر ہے ساتھ میرے مجھے کچھ کمی نہیں ہے وہ نظر نظر نہیں ہے نہ ہو جس میں عکس تیرا کوئی دل ہے وہ بھی جس میں غم عاشقی نہیں ہے کوئی واسطہ نہیں ہے جسے درد دیگراں سے وہ ہے ...

    مزید پڑھیے

    شکوہ اس کا تو نہیں ہے جو کرم چھوڑ دیا

    شکوہ اس کا تو نہیں ہے جو کرم چھوڑ دیا ہے ستم یہ کہ ستم گر نے ستم چھوڑ دیا لے گیا چھین کوئی سب سر و سامان حیات ہاں مگر ایک سلگتا ہوا غم چھوڑ دیا لگ گئی ان کو بھی شاید ترے کوچے کی ہوا مے کدہ رند نے زاہد نے حرم چھوڑ دیا ہائے اس رہ رو برباد کی منزل اے دوست جس نے گھبرا کے ترا نقش قدم ...

    مزید پڑھیے

    نہ سمجھ سکی جو دنیا یہ زبان بے زبانی

    نہ سمجھ سکی جو دنیا یہ زبان بے زبانی ترا چہرہ خود کہے گا مرے قتل کی کہانی یہ عذاب آسمانی یہ عتاب ناگہانی ہیں کہاں سمجھنے والے مرے آنسوؤں کو پانی کہیں لٹ رہا ہے خرمن کہیں جل رہا ہے گلشن اسے کس نے سونپ دی ہے یہ چمن کی پاسبانی مری تجھ سے کیا ہے نسبت مرا تجھ سے واسطہ کیا تو حریص ...

    مزید پڑھیے
صفحہ 1 سے 2