اختر ملک کی غزل

    بنتے کھیل بگڑ جاتے ہیں دھیرے دھیرے

    بنتے کھیل بگڑ جاتے ہیں دھیرے دھیرے سارے لوگ بچھڑ جاتے ہیں دھیرے دھیرے سپنوں سے مت جی بہلاؤ دیکھو لوگو سپنے پیچھے پڑ جاتے ہیں دھیرے دھیرے ضبط کرو تو بہتر ہے دیوانو ورنہ آنسو زور پکڑ جاتے ہیں دھیرے دھیرے جتنا ہوتا ہے اخترؔ کوئی کسی کے پاس اتنے فاصلے بڑھ جاتے ہیں دھیرے دھیرے

    مزید پڑھیے

    قرب کے نہ وفا کے ہوتے ہیں

    قرب کے نہ وفا کے ہوتے ہیں جھگڑے سارے انا کے ہوتے ہیں بات نیت کی صرف ہے ورنہ وقت سارے دعا کے ہوتے ہیں بھول جاتے ہیں مت برا کہنا لوگ پتلے خطا کے ہوتے ہیں وہ بظاہر جو کچھ نہیں لگتے ان سے رشتے بلا کے ہوتے ہیں وہ ہمارا ہے اس طرح شاید جیسے بندے خدا کے ہوتے ہیں بخش دینا بھی ٹھیک ہے ...

    مزید پڑھیے

    اک بار جو بچھڑے وہ دوبارہ نہیں ملتا

    اک بار جو بچھڑے وہ دوبارہ نہیں ملتا مل جائے کوئی شخص تو سارا نہیں ملتا اس کی بھی نکل آتی ہے اظہار کی صورت جس شخص کو لفظوں کا سہارا نہیں ملتا پھر ڈوبنا یہ بات بہت سوچ لو پہلے ہر لاش کو دریا کا کنارا نہیں ملتا یہ سوچ کے دل پھر سے ہے آمادۂ الفت ہر بار محبت میں خسارہ نہیں ...

    مزید پڑھیے