Akhtar lakhnvi

اختر لکھنوی

شاعر اور صحافی، لمبے عرصے تک ریڈیو پاکستان سے وابستہ رہے، فلموں کے لیے نغمے اور مکالمے بھی لکھے

Poet and journalist, long associated with radio Pakistan; also wrote dialogues and lyrics for films

اختر لکھنوی کی غزل

    دل کے ہر زخم کو پلکوں پہ سجایا تو گیا

    دل کے ہر زخم کو پلکوں پہ سجایا تو گیا آپ کے نام پہ اک جشن منایا تو گیا مئے کہنہ نہ سہی خون تمنا ہی سہی ایک پیمانہ مرے سامنے لایا تو گیا خیر اپنا نہیں باغی ہی سمجھ کر ہم کو تیری محفل میں کسی طور بلایا تو گیا اب یہ بات اور کہ زنداں میں بھی زنجیریں ہیں ہم کو گلشن کی بلاؤں سے بچایا تو ...

    مزید پڑھیے

    سوئے مقتل کوئی دم ساتھ چلے

    سوئے مقتل کوئی دم ساتھ چلے جس کو رکھنا ہو بھرم ساتھ چلے اسی حسرت میں کٹی راہ حیات کوئی دو چار قدم ساتھ چلے خار زاروں میں جہاں کوئی نہ تھا بن کے ہم دم ترے غم ساتھ چلے ہم سے رندوں کا ٹھکانا کیا ہے تم کہاں شیخ حرم ساتھ چلے وادئ شب کی کٹھن راہوں میں لوگ کترا گئے کم ساتھ چلے

    مزید پڑھیے

    دیکھو اس نے قدم قدم پر ساتھ دیا بیگانے کا

    دیکھو اس نے قدم قدم پر ساتھ دیا بیگانے کا اخترؔ جس نے عہد کیا تھا تم سے ساتھ نبھانے کا آج ہمارے قدموں میں ہے کاہکشاں شہر مہتاب کل تک لوگ کہا کرتے تھے خواب اسے دیوانے کا تیرے لب و رخسار کے قصے تیرے قد و گیسو کی بات ساماں ہم بھی رکھتے ہیں تنہائی میں دل بہلانے کا تم بھی سنتے تو رو ...

    مزید پڑھیے

    دل میں ٹیسیں جاگ اٹھتی ہیں پہلو بدلتے وقت بہت

    دل میں ٹیسیں جاگ اٹھتی ہیں پہلو بدلتے وقت بہت اپنا زمانہ یاد آتا ہے سورج ڈھلتے وقت بہت وہ پرچم وہ سر کے طرے اور وہ سفینے اپنے تھے جن کو دیکھ کے شعلے بھی روئے تھے جلتے وقت بہت ان شیشوں کے ریزوں کا مرہم ہے اپنے زخموں پر لمحہ لمحہ جو ٹوٹے تلواریں چلتے وقت بہت پل بھر میں پانی ہوتے ...

    مزید پڑھیے

    کسی کا چہرہ کسی پر سجا نہیں دیتا

    کسی کا چہرہ کسی پر سجا نہیں دیتا کبھی فریب کوئی آئنہ نہیں دیتا حسد کا رنگ پسندیدہ رنگ ہے سب کا یہاں کسی کو کوئی اب دعا نہیں دیتا اک اعتماد تھا باقی سو اٹھ گیا وہ بھی کہ بھائی بھائی کے گھر کا پتا نہیں دیتا بجھائے جب سے ہمارے چراغ لوگوں نے کوئی درخت ہمیں اب ہوا نہیں دیتا ہمیں ...

    مزید پڑھیے

    اب درد کا سورج کبھی ڈھلتا ہی نہیں ہے

    اب درد کا سورج کبھی ڈھلتا ہی نہیں ہے اب دل کوئی پہلو ہو سنبھلتا ہی نہیں ہے بے چین کئے رہتی ہے جس کی طلب دید اب بام پہ وہ چاند نکلتا ہی نہیں ہے اک عمر سے دنیا کا ہے بس ایک ہی عالم یہ کیا کہ فلک رنگ بدلتا ہی نہیں ہے ناکام رہا ان کی نگاہوں کا فسوں بھی اس وقت تو جادو کوئی چلتا ہی نہیں ...

    مزید پڑھیے

    رونق ہی نہیں اس کی ہم روح و رواں بھی ہیں

    رونق ہی نہیں اس کی ہم روح و رواں بھی ہیں لیکن ہمیں دنیا کی خاطر پہ گراں بھی ہیں اک تیرے ہی کوچے پر موقوف نہیں ہے کچھ ہر گام ہیں تعزیریں ہم لوگ جہاں بھی ہیں گلچیں کو نہیں شاید اس راز سے آگاہی شبنم میں نہائے گل شعلوں کی زباں بھی ہیں کھاتے تھے قسم جن کے کردار و عمل کی ہم شامل صف ...

    مزید پڑھیے

    شہر کا شہر صلیبوں سے سجا ہے اب کے

    شہر کا شہر صلیبوں سے سجا ہے اب کے ان کی آمد کا ہر انداز نیا ہے اب کے قافلہ قافلہ مقتل کی طرف جائیں گے لوگ شوخ پہلے سے بہت رنگ حنا ہے اب کے یہ تو سچ ہے وہ اسی راہ سے گزریں گے مگر کوئی دیکھے نہ انہیں حکم ہوا ہے اب کے آؤ جی بھر کے گلے مل لیں رفیقو ہم آج قتل کی شکل میں انعام وفا ہے اب ...

    مزید پڑھیے

    ہشیار کر رہا ہے گجر جاگتے رہو

    ہشیار کر رہا ہے گجر جاگتے رہو اے صاحبان فکر و نظر جاگتے رہو دشت شب سیاہ میں سنتے ہیں شب پرست روکیں گے کاروان سحر جاگتے رہو ظلمت کہیں نہ کر دے اجالے کو داغدار لے کر چراغ دیدۂ تر جاگتے رہو سوئے نہیں کہ ڈوب گئی نبض کائنات بوجھل ہو لاکھ آنکھ مگر جاگتے رہو خوابیدہ اپنے چاہنے والوں ...

    مزید پڑھیے