دل کے ہر زخم کو پلکوں پہ سجایا تو گیا
دل کے ہر زخم کو پلکوں پہ سجایا تو گیا آپ کے نام پہ اک جشن منایا تو گیا مئے کہنہ نہ سہی خون تمنا ہی سہی ایک پیمانہ مرے سامنے لایا تو گیا خیر اپنا نہیں باغی ہی سمجھ کر ہم کو تیری محفل میں کسی طور بلایا تو گیا اب یہ بات اور کہ زنداں میں بھی زنجیریں ہیں ہم کو گلشن کی بلاؤں سے بچایا تو ...