Akhtar Kazmi

اختر کاظمی

اختر کاظمی کی غزل

    ہم ازل سے ان چاہے ضابطوں میں رہتے ہیں

    ہم ازل سے ان چاہے ضابطوں میں رہتے ہیں زندگی کا لالچ ہے قاتلوں میں رہتے ہیں ہم عجب مسافر ہیں راستوں سے ڈرتے ہیں منزلوں کی خواہش ہے اور گھروں میں رہتے ہیں آج بھی رہائی کے کچھ بچے کھچے جذبے ہم شکست خوردہ ہم جیدوں میں رہتے ہیں ڈھونڈتے ہیں اپنے کچھ گمشدہ ارادوں کو ہم کہ اپنے خوابوں ...

    مزید پڑھیے