زندگی کی بہار لے کے چلے
زندگی کی بہار لے کے چلے
دامن تار تار لے کے چلے
گل رخان چمن کی محفل سے
سینۂ صد فگار لے کے چلے
آہ یہ خواب عشق کی تعبیر
عالم انتظار لے کے چلے
بے قراری میں عمر گزری تھی
آج دل کا قرار لے کے چلے
پا گئے راز خندۂ گل ہم
دیدۂ اشک بار لے کے چلے
مل گئی داد آبلہ پائی
پرسش نوک خار لے کے چلے
ضبط غم کا جمالؔ ہے یہ صلہ
طعنۂ غم گسار لے کے چلے