تو علم والا ہے اتنا تو جانتا ہوگا
تو علم والا ہے اتنا تو جانتا ہوگا
ہم اچھے لوگ برے بن گئے تو کیا ہوگا
میں اس یقین پہ تا عمر جینے والا ہوں
جہاں پہ کچھ نہ ملے گا وہاں خدا ہوگا
تو میرے سارے رقیبوں کے نام جانتی ہے
تجھے تو میری محبت کا بھی پتا ہوگا
یہ جتنی تیزی سے دور جدید آ رہا ہے
ہوا کے ہاتھ میں بھی ایک دن دیا ہوگا
مجھے بتایا تھا بچپن میں اک نجومی نے
تو جس سے پیار کرے گا وہ بے وفا ہوگا
میں تجھ کو یاد بھی کرتا ہوں اور نہیں بھی دوست
مرا یہ شعر بھی ذو معنی بن گیا ہوگا