سامنے آؤ کہ میں چہرۂ زیبا دیکھوں
سامنے آؤ کہ میں چہرۂ زیبا دیکھوں
اور اس آئینے میں عکس پھر اپنا دیکھوں
تم ہی منزل ہو تم ہی گوہر مقصود مرا
دیکھ کر تم کو میں کیا اور تماشا دیکھوں
تم ہی بتلاؤ کہ اس کار گہ ہستی میں
کیا نہ دیکھوں میں اگر دیکھوں تو کیا کیا دیکھوں
تجھ کو یہ ناز کوئی پا نہ سکے گا ہرگز
مجھ کو یہ ضد کہ ترا نقش کف پا دیکھوں
تو نے چاہا تو بہت گردش ایام کہ میں
خود تماشا بنوں اپنا ہی تماشا دیکھوں
کاش اس زیست میں وہ وقت بھی آئے محبوبؔ
چار سو دہر میں ایماں کا اجالا دیکھوں