قومی زبان

پھر لوٹ کے اس بزم میں آنے کے نہیں ہیں

پھر لوٹ کے اس بزم میں آنے کے نہیں ہیں ہم لوگ کسی اور زمانے کے نہیں ہیں اک دور کنارا ہے وہیں جا کے رکیں گے جتنے بھی یہاں گھر ہیں ٹھکانے کے نہیں ہیں یوں جاگتے رہنا ہے تو آنکھوں میں ہماری جو خواب چھپے ہیں نظر آنے کے نہیں ہیں دل ہے تو یہ دولت کبھی معدوم نہ ہوگی یہ درد کسی اور خزانے ...

مزید پڑھیے

کبھی صحرا میں رہتے ہیں کبھی پانی میں رہتے ہیں

کبھی صحرا میں رہتے ہیں کبھی پانی میں رہتے ہیں نہ جانے کون ہے جس کی نگہبانی میں رہتے ہیں زمیں سے آسماں تک اپنے ہونے کا تماشا ہے یہ سارے سلسلے اک لمحۂ فانی میں رہتے ہیں سویرا ہوتے ہوتے روز آ جاتے ہیں ساحل پر سفینے رات بھر دریا کی طغیانی میں رہتے ہیں پتا آنکھیں کو ملتا ہے یہیں سب ...

مزید پڑھیے

کیوں پریشان ہوا جاتا ہے دل کیا جانے

کیوں پریشان ہوا جاتا ہے دل کیا جانے کیسا پاگل ہے کہ پانی کو بھی صحرا جانے میں وہ آوارہ کہ بادل بھی خفا ہیں مجھ سے تو زمانے کو بھی ٹھہرا ہوا لمحہ جانے دھوپ کی گرد فضاؤں میں دلوں میں تابوت ہر نفس خود کو بس اک آگ کا دریا جانے اوس کی بوند بھی اب سنگ صفت لگتی ہے پھول کے باغ کو دل آگ کا ...

مزید پڑھیے

یہ رشتۂ جاں میری تباہی کا سبب ہے

یہ رشتۂ جاں میری تباہی کا سبب ہے اس قید سے چھٹنے کی تمنا بھی عجب ہے اس عرصۂ محشر میں خموشی بھی صدا ہے ٹوٹی ہوئی قبروں میں بڑا شور و شعب ہے سورج کو یہ ضد اس کی اک بوند نہ رہ جائے ہونٹوں کو فقط پیاس بجھانے کی طلب ہے چہرے پہ تھکن سانس کی زنجیر پریشاں آنکھوں میں مگر اب بھی وہی غیظ و ...

مزید پڑھیے

چور دروازہ

میرے سونے کمرے میں تو کوئی نہیں تھا میں نے اس کمرے کو خالی کر کے سب دروازے بند رکھے تھے گوشہ گوشہ دیکھ چکا تھا کوئی نہیں تھا میں تھا میری تنہائی تھی لیکن مجھ کو یہ تو بتاؤ تم آخر کس دروازے سے اس کمرے میں در آئی ہو

مزید پڑھیے

شہر جاں میں اضطراب سوز فن دیکھے گا کون

شہر جاں میں اضطراب سوز فن دیکھے گا کون میرے اندر ایک قلزم موجزن دیکھے گا کون مضمحل سوچوں کے اس جھلسے ہوئے ماحول میں تیرا حسن قامت سرو سمن دیکھے گا کون رات نے آنکھوں میں بھر دیں اس قدر تاریکیاں صبح تو ہوگی مگر پہلی کرن دیکھے گا کون اپنی اپنی آگ میں آنکھیں جھلس کر رہ گئیں تیرے ...

مزید پڑھیے

لکڑہارے تمہارے کھیل اب اچھے نہیں لگتے

لکڑہارے تمہارے کھیل اب اچھے نہیں لگتے ہمیں تو یہ تماشے سب کے سب اچھے نہیں لگتے اجالے میں ہمیں سورج بہت اچھا نہیں لگتا ستارے بھی سر دامان شب اچھے نہیں لگتے تو یہ ہوتا ہے ہم گھر سے نکلنا چھوڑ دیتے ہیں کبھی اپنی گلی کے لوگ جب اچھے نہیں لگتے یہ کہہ دینا کہ ان سے کچھ گلہ شکوہ نہیں ...

مزید پڑھیے

بس ایک وہم ستاتا ہے بار بار مجھے

بس ایک وہم ستاتا ہے بار بار مجھے دکھائی دیتا ہے پتھر کے آر پار مجھے مرا خدا ہے تو مجھ میں اتار دے مجھ کو کہ ایک عمر سے اپنا ہے انتظار مجھے میں لفظ لفظ بکھرتا رہا فضاؤں میں مری صدا سے وہ کرتا رہا شکار مجھے جو ڈھال دیتے ہیں پرچھائیوں کو پتھر میں اب ایسے سخت دلوں میں نہ کر شمار ...

مزید پڑھیے

بند کر لے کھڑکیاں یوں رات کو باہر نہ دیکھ

بند کر لے کھڑکیاں یوں رات کو باہر نہ دیکھ ڈوبتی آنکھوں سے اپنے شہر کا منظر نہ دیکھ کیا پتہ زنجیر میں ڈھل جائے بستر کی شکن یہ سفر کا وقت ہے اب جانب بستر نہ دیکھ خاک و خوں میراث تیری خاک و خوں تیرا نصیب اس زیاں خانے میں اپنے پاؤں کا چکر نہ دیکھ تو نے جو پرچھائیاں چھوڑیں وہ صحرا بن ...

مزید پڑھیے

شام آئی صحن جاں میں خوف کا بستر لگا

شام آئی صحن جاں میں خوف کا بستر لگا مجھ کو اپنی روح کی ویرانیوں سے ڈر لگا ایک لمحے کی شرارت تھی کہ ہر لمحہ مجھے آپ اپنی سمت سے آتا ہوا پتھر لگا دھند سی پھیلی ہوئی تھی آسماں پر دور تک موجۂ ریگ رواں مجھ کو ترا پیکر لگا خانۂ دل کو سجانا بھی ہے اک شوق فضول کون جھانکے گا یہاں یہ آئینے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 846 سے 6203