قومی زبان

جن و پری

سینہ کوبی سے زمیں ساری ہلا کے اٹھےکیا علم دھوم سے تیرے شہدا کے اٹھےمولوی تسلی صاحب غدر 1857 سے پہلے ایک بزرگ دہلی میں گزرے ہیں۔ قوم کے سید تھے۔ چشتیہ نظامیہ طریقہ اچھی طرح حاصل کیا تھا۔ دوسرا کمال ان کا شاعری تھا۔ حمد اور نعت اور منقبت کہتے تھے۔ اور ایسی خوب کہتے تھے، جسے سن کر ...

مزید پڑھیے

عاشقوں کی بات چیت

ہجر ہے آفت جان وصل بلائے دل ہےآدمی کے لئے ہر طرح غرض مشکل ہےپھول والوں کی سیر ہو چکی تھی۔ قطب صاحب کی لاٹ سے لے کر جھرنہ تک ساری مہرولی پڑی بھائیں بھائیں کر رہی تھی۔ سنسان، آدم نہ آدم زاد، جھرنہ میں پانی بھرا تھا اور جھرنہ کے کنارے ایک مور کھڑا ناچ رہا تھا۔ آم کے درخت پر ایک ...

مزید پڑھیے

جزیرۂ مالٹا کے دو پھول

دل آشفتگان خالِ کنج دہن کےسویدا میں سیرِ عدم دیکھتے ہیںجزیرہ مالٹا فی زمانہ اس سبب سے مشہور ہے کہ یورپ سے ہندوستان آنے جانے والے جہازوں کا بندرگاہ ہے۔ اس پر گورنمنٹ عالیہ برطانیہ کا قبضہ ہے۔ دراصل مالٹا جزائر کے مجموعہ کا نام ہے۔ جس میں گوز و کومیشو وغیرہ وغیرہ چھوٹے چھوٹے ...

مزید پڑھیے

پانچ ہزار طنبورے اور ستار کا نذرانہ

ابرو نے کیوں کھینچی کماں یہ زلف کیوں پیچیدہ ہےبھرتا ہوں تیری مانگ میں، یہ صندل سائیدہ ہےسنا جاتا ہے کہ دلی کے عیش پرست بادشاہ ہاتھی پر سوار لال قلعہ سے شہر میں گزر رہے تھے۔ حضور والا کی سواری کے چاروں طرف سوار اور پیادوں کا ہجوم تھا۔ سر راہ ایک کوٹھا تھا، جس کی چار دیواری نیچی ...

مزید پڑھیے

دلی کے پوشیدہ ارباب کمال

شاہ بھورے صاحب رحمۃ اللہ علیہ، پریڈ کے میدان میں جہاں حضرت شیخ کلیم اللہ جہان آبادی قدس سرہ العزیز کا مزارِ پُرانوار ہے، ٹھنڈی سڑک سے ادھر بالکل سیدھ میں لال قلعہ کی خندق پر ایک پرانے درخت کے سایہ میں ایک پکی قبر بنی ہوئی ہے۔ قبر کے سرہانے ایک چراغ دان گچ کا ہے، جس میں سرشام ...

مزید پڑھیے

لال قلعہ کے نیچے گولڈن ہارن

نہ گیا کوئی عدم کو، دل شاداں لے کر یاں سے کیا کیا نہ گئے حسرت و ارماں لے کر صدیاں اور قرن ابھی نہیں گزرے، بلکہ کچھ دنوں کی بات ہے کہ ترپولیہ سے گزر کر دیائے جمنا کی سنہری شاخ لال قلعہ کی قدم بوسی کرتی ہوئی زینت المساجد کے نیچے آتی تھی۔ اور زینت المساجد کے پاس جو فصیل میں کھڑکی ...

مزید پڑھیے

نواب عاقل خاں پنج ہزاری

نواب عاقل خاں صاحب مرحوم کی نسبت عوام الناس نے طرفہ بہتان باندھ رکھے ہیں۔ اور اگر ان سے پوچھئے کہ عاقل خاں ان کا نام تھا یا خطاب، اگر خطاب تھا تو ان کا نام کیا تھا، تو بس یہ کہہ کر چپکے ہوجائیں گے کہ اورنگ زیب کے عہد میں گزرے ہیں۔ اور ہمیں کچھ حال معلوم نہیں۔ جب ان حضرات کی ...

مزید پڑھیے

کمالات خسروی

آفاق ہاگردیدہ ام عشق بتاں و رزیدہ ام بسیار خوباں دیدہ ام لیکن تو چیزے دیگری سلف سے جتنے تذکرہ نویس گزرے ہیں، ان حضرات نے حضرت امیر خسرو طوطی ہند قدس سرہ العزیز کے متعلق صرف اتنا ہی لکھا ہے کہ آپ ہندی فارسی کے بڑے شاعر تھے۔ اور شاعری کی بعض صنعتوں کے موجد گزرے ہیں۔ کچھ فقیر بھی ...

مزید پڑھیے

اے بڑھیا میں کیسا؟

ایک میں دل ریش ہوں ویسا ہی دوستزخم کتنوں کے سنا ہے بھر چلےآغا قیس (اپنی بیوی الماس خانم سے) بیگم! دیکھو، میں دلی چھوڑ کر کلکتہ جارہا ہوں۔ آنے جانے میں برسوں لگیں گے، اور زندگی کا کچھ بھروسہ نہیں۔ خدا جانے تم لوگوں کی شکل پھر دیکھنی نصیب ہو یا نہیں۔ میں وصیت کرتا ہوں کہ تم میری ...

مزید پڑھیے

اقبال اور ماڈرنزم کی بحث

ماڈرن ازم اقبال کی معاصریوروپی ادبی تحریک تھی۔ اس کا زمانہ ۱۹۱۰ء تا ۱۹۳۰ء قرار دیا جاتا ہے۔معاصر تحریک ہونے کے باوجود اس کے بہ راہِ راست اثرات اقبال کی شاعری پر نظر نہیں آتے۔ ایسے میں یہ سوال بے حد اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ آیا اقبال اس تحریک سے آگاہ نہیں تھے اور اگر آگاہ تھے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6161 سے 6203