قومی زبان

فکشن نگار کی تنہائی

بیسویں صدی کے آواخر اور اکیسویں صدی کی شروعات میں قومی سیاست اور سماجی زندگی میں بہت ساری تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں۔ ایٹمی ہتھیاروں کی ایک نئی دوڑ شروع ہوئی ہے جس میں اب ایران اور برما بھی شریک ہوگئے ہیں۔ افغانستان میں جاری جنگ میں لاکھوں معصوم لوگوں کا خون بہہ چکا ہے۔ امریکی ...

مزید پڑھیے

فلم بنانا کھیل نہیں

فلم یوں تو کھیل ہے، لیکن اس کا بنانا کھیل نہیں۔ ارادے اور روپ ریکھا سے لے کر فلم بنانے تک بیچ میں بیسیوں، سیکڑوں ایسی رکاوٹیں آتی ہیں کہ بڑے دل گردے والا آدمی بھی دم توڑ سکتا ہے۔ سوشل فلم باقی دوسری فلموں سے الگ نہیں، لیکن زیادہ مشکل اس لیے ہے کہ سماج مختلف قسم کا ہے۔ کئی مذہب، ...

مزید پڑھیے

چلتے پھرتے چہرے

اس وقت میں صرف ایک ہی چہرے کی بات کر رہا ہوں جو بہت ’’چلتا پھرتا ہے۔۔۔‘‘ اور وہ چہرہ آج کل کے عام نوجوانوں کا ہے۔۔۔ چنانچہ میرے بیٹے کا بھی۔ اپنے بیٹے کا چہرہ دکھانے کی کوشش میں، اگر کہیں بیچ میں آپ کو میرا چہرہ بھی دکھائی دینے لگے تو برا مت مانیےگا۔ کیوں کہ میں آخر اسی کا باپ ...

مزید پڑھیے

افسانوی تجربہ اور اظہار کے تخلیقی مسائل

میں معافی چاہوں گا کہ اس مضمون کو کھولنے کے لیے مجھے اپنی ذات میں سے ہوکر گزرنا پڑ رہا ہے۔ آپ اس لیے بھی درگزر کریں گے کہ اتنی بڑی مخلوق کی میں بھی اکائی ہوں ایک، اس لیے سب کو سمجھنے کے لیے میرے نزدیک یہ ضروری ہے کہ پہلے میں آپ کو سمجھ لوں۔ افسانوی تجربہ کیا ہے؟ مجھے افسانہ سازی ...

مزید پڑھیے

مہمان

میں شروع ہی میں مانے لیتا ہوں کہ مجھے مہمانوں سے نفرت ہے، سخت نفرت ہے! اگرچہ میں اتنا پڑھا لکھا نہیں لیکن یہ بات ضرور جانتا ہوں کہ ہماری سبھیتا میں مہمان کا بہت بڑا درجہ ہے۔ یہ تو مہمان کی اپنی بدکرداریوں اور اس کے نام میں لگی ہوئی فالتو سی ’م‘ نے گڑبڑ کردی، ورنہ وہ تھا ہی ...

مزید پڑھیے

ہوٹل

میاں آزاد، خانہ برباد، یہاں بستر جمانے یا کسی مکان کا قبالہ لکھوانے تو آئے تھے نہیں۔ راہ راہ آئے دو تین دن رہے، چلے گئے۔ لکھنؤ کے اسٹیشن پر پہنچے تو وہ چہل پہل، وہ بھیڑ بھڑکا، وہ دھکم دھکا کہ شانہ سے شانہ چھلتا تھا۔ برہمن دیوتا ڈول لئے کھٹ کھٹاتے چلے جاتے ہیں۔ جل ٹھنڈے، کٹورا ...

مزید پڑھیے

آٹھوں کا میلہ

(انتخاب از فسانہ آزاد)وہاں سے جو میاں آزاد تیر کی طرح رواں ہوئے تو راہ میں دیکھا کہ کئی مسافر لدے پھندے جا رہے ہیں۔ کیوں بھئی، اس وقت کہاں؟ لکھنؤ! لکھنؤ؟ یہ کیوں؟ کیوں کیا۔ آٹھوں کا میلہ ہے یا نہیں۔ اس دھوم دھڑکے کا میلہ دیکھا نہ سنا۔ ہاں تو اب ہم بھی چلتے ہیں۔ محرم الحرام اور ...

مزید پڑھیے

ہندوستانی صنعت فلم سازی پر ایک نظر

۱۹۱۳ء میں مسٹر ڈی جی پھالکے نے ہندوستان کا پہلا فلم بنایا اور اس صنعت کا بیج بویا۔ دادا پھالکے نے آج سے پچیس برس پہلے اپنی دھرم پتنی کے زیورات بیچ کر جو خواب دیکھا تھا ان کی نگاہوں میں یقیناً پورا ہو گیا ہوگا، مگر وہ خواب جو ملک کے ترقی پسند نوجوان دیکھ رہے ہیں، ابھی تک ان کی ...

مزید پڑھیے

دیہاتی بولیاں ۲

پنجاب کے چھوٹے چھوٹے دیہاتوں میں بنجاروں کی آمد بہت اہمیت رکھتی ہے۔ عورتیں عام طور پر اپنے سنگھار کا سامان انہی بنجاروں سے خریدتی ہیں۔ دیہاتی زندگی میں بنجارے کو اپنے پیشے اور اپنی چلتی پھرتی دکان کی وجہ سے کافی اہمیت حاصل ہے، چنانچہ دیہاتی گیتوں اور بولیوں میں اس کا ذکر عام ...

مزید پڑھیے

لیچیاں، آلوچے اور الائچیاں

’’آپ کا اسم گرامی؟‘‘ ’’خاکسار کو آلوچہ چیچا وطنی کہتے ہیں۔‘‘ ’’فرمایئے!‘‘ ’’یہ میرے مکرم دوست۔۔۔ مسٹر آلو بخارا ہیں۔‘‘ ’’ارشاد؟‘‘ ’’ہمیں بیگم خوبانی صاحبہ سے شرف ملاقات حاصل کرنا ہے۔‘‘ ’’میں ابھی اطلاع کرتی ہوں۔‘‘ ’’دیکھئے، ان کے وقت میں حرج نہ ہو۔ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6157 سے 6203