قومی زبان

دلی کے چٹخارے

شاہ جہاں بادشاہ نے آگرہ کی مچ مچاتی گرمی سے بچنے کے لئے دلی کو حکومت کا صدر مقام بنانے کے لئے پسند کیا اور جمنا کے کنارے قلعہ معلیٰ کی نیو پڑی۔ یہاں ہو کا عالم تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے جمنا کے کنارے کنارے ہلالی شکل میں شہر آباد ہونا شروع ہو گیا۔ ہزاروں مزدور قلعہ کی تعمیر میں لگ ...

مزید پڑھیے

دلی کے دل والے

’’دلی کی دل والی، منھ چکنا پیٹ خالی۔‘‘ یہ جو مثل مشہور ہےتو اس میں بہت کچھ صداقت بھی ہے۔ روپے پیسے والوں کا تو ذکر ہی کیا؟ انھیں تو ہمہ نعمت چٹکی بجاتے میں مہیا ہو جاتی ہے۔ دلی کے غریبوں کا یہ حوصلہ تھا کہ نہوتی میں دھڑلَے سے خرچ کرتے، کل کی فکر انہیں مطلق نہ ہوتی تھی۔ کوڑی کفن ...

مزید پڑھیے

دلی کا آخری تاجدار

مرزا غالب نے کہا ہے، شمع بجھتی ہے تو اس میں سے دھواں اٹھتا ہے یہی حال مغلیہ سلطنت کا بھی ہوا۔ آخری وقت کچھ اس طرح کا دھواں اٹھا کہ ساری محفل سیاہ پوش ہو گئی۔ یوں تو اورنگ زیب کے بعد ہی اس عظیم الشان مغلیہ سلطنت میں انحطاط کے آثار پیدا ہو چکے تھے لیکن ان کے بعد تو وہ افراتفری ...

مزید پڑھیے

دلی کے حوصلہ مند غریب

میاں شبو اور ان کے دوست جب چچا کے ٹھئے سے چلے تو شبو بولے، ’’میاں یہ بڈھا بڑا وضع دار ہے۔ تم اس کے میلے کپڑوں اور مفلسی کو نہ دیکھو۔ اس نے اپنی ضد کے پیچھے لاکھ کا گھر خاک کر رکھا ہے۔ بھلا یہ بھی کوئی جگہ ٹھیا لگانے کی ہے؟ ادھر تو رستہ ہی نہیں چلتا۔ آس پاس کوئی دکان نہیں ہے مگر ...

مزید پڑھیے

بھانڈ اور طوائفیں

شاہی اور شہر آبادی کا تو ذکر ہی کیا، اب سے چالیس پچاس سال پہلے تک دلی میں ایک سے ایک منچلا رئیس تھا۔ ریاست تو خیر باپ دادا کے ساتھ ۱۸۵۷ء میں ختم ہو گئی تھی مگر فرنگی سرکار سے جو گزارا انہیں ملتا تھا، اس میں بھی ان کے ٹھاٹ باٹ دیکھنے کے لائق تھے۔ انہیں میں سے ایک بگڑے دل رئیس تھے ...

مزید پڑھیے

شاہ جہانی دیگ کی کھرچن

اب سے چالیس پینتالیس سال پہلے تک دلی میں شاہجہانی دیگ کی کھرچن باقی تھی۔ بڑے وضع دار لوگ تھے یہ دلی والے۔ جب تک جیتے رہے ان کی وضع میں کوئی فرق نہیں آیا۔ ہر شخص اپنی جگہ پر ایک نمونہ تھا، ایک نگینہ تھا دلی کی انگوٹھی میں جڑا ہوا۔ انہیں دیکھ کر آنکھوں میں روشنی آ جاتی اور ان کی ...

مزید پڑھیے

کسان، مزدور، سرمایہ دار، زمیندار

ہمارے دو سال کے تجربات نے، جو ہمیں قحط زدہ علاقہ میں امدادی رقوم تقسیم کرنے کے دوران میں حاصل ہوئے ہیں، ہمارے ان دیرینہ افکار و آرا کی تصدیق کر دی ہے کہ یہ مصائب جن کی روک تھام کے لئے ہم روس کے ایک کونے میں بیٹھ کر بیرونی ذرائع سے سعی کر رہے ہیں، کسی غیر مستقل وجہ کا نتیجہ نہیں ...

مزید پڑھیے

تحدید اسلحہ

بین الاقوامی سیاست اتنی پیچ دار اور الجھی ہوئی ہے کہ اس کو سمجھنا کام رکھتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اس بھول بھلیوں میں انسان گم ہو کر رہ جاتا ہے۔ تحدید اسلحہ کے متعلق آپ نے بیسیوں مرتبہ اخباروں میں پڑھا ہوگا مگر سچ کہیئے کہ آپ نے اس کے متعلق کیا سمجھا؟ لیکن میں آپ کی عقل و دانش کا ...

مزید پڑھیے

دو گڑھے

مجھے آپ افسانہ نگار کی حیثیت سے جانتے ہیں اور عدالتیں ایک فحش نگار کی حیثیت سے، حکومت مجھے کبھی کمیونسٹ کہتی ہے اور کبھی ملک کا بہت بڑا ادیب۔ کبھی میرے لئے روزی کے دروازے بند کئے جاتے ہیں، کبھی کھولے جاتے ہیں، کبھی مجھے غیر ضروری انسان قرار دے کر ’’مکان باہر‘‘ کا حکم دیا جاتا ...

مزید پڑھیے

سر سید اور علامہ اقبال: ہم آہنگیٔ فکر و عمل

ہندوستانیوں خصوصاً مسلمانوں کے قوائے علم وعمل کو حرکت میں لانے کے لیے سرسید کو جو مشکلات پیش آئیں اُنھیں سیدوالا گہر نے چیلنج سمجھ کر قبول کیا۔ علامہ اقبال سرسید کی زمانہ شناسی، دُور اندیشی اور جذبہ فکروعمل سے بے حد متاثر تھے۔ زمانی اعتبار سے دیکھا جائے تو اقبال، سرسید سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6154 سے 6203