قومی زبان

پلاٹ کا قصہ

افسانے پر نظریاتی بحث کی ابتدا ارسطو سے ہوتی ہے۔ چونکہ المیہ، طربیہ اور افسانہ، تینوں میں واقعات کا بیان ہوتا ہے، اس لئے المیہ اور طربیہ میں واقعات کے بارے میں ارسطو نے جو کچھ کہا اس کو افسانے کے لئے بھی صحیح سمجھ لیا گیا۔ چنانچہ ارسطو کے زیرِ اثر یہ نظریہ قائم اور مقبول ہوا کہ ...

مزید پڑھیے

کیا نظریاتی تنقید ممکن ہے؟

تنقید کیا ہے؟ اس سوال کا جواب شاید بہت تشفی بخش نہ ہو، لیکن تنقید کیا نہیں ہے؟ کا جواب یقینا تشفی بخش اور بڑی حد تک قطعی ہوسکتاہے۔ تنقید عمومی اور سرسری اظہار رائے نہیں ہے۔ غیرقطعی اور گول مول بات کہنا نقاد کے منصب کے منافی ہے۔ تنقید کا مقصد معلومات میں اضافہ کرنا نہیں بلکہ علم ...

مزید پڑھیے

آزادی رائے

ہم اپنے اس آرٹیکل کو ایک بڑے لائق اور قابل زمانہ حال کے فیلسوف کی تحریر سے اخذ کرتے ہیں۔ رائے کی آزادی ایک ایسی چیز ہے کہ ہر ایک انسان اس پر پورا پورا حق رکھتا ہے۔ فرض کرو کہ تمام آدمی بجز ایک شخص کے کسی بات پر متفق الرائے ہیں، مگر صرف وہی ایک شخص ان کے بر خلاف رائے رکھتا ہے تو ...

مزید پڑھیے

منزل منزل

راجدہ نے کہا تھا میرے متعلق افسانہ مت لکھنا۔ میں بدنام ہوجاؤں گی۔ اس بات کو آج تیسرا سال ہے اور میں نے راجدہ کے بارے میں کچھ نہیں لکھا اور نہ ہی کبھی لکھوں گا۔ اگرچہ وہ زمانہ جو میں نے اس کی محبت میں بسر کیا، میری زندگی کا سنہری زمانہ تھا اور اس کا خیال مجھے ایک ایسے باغ کی یاد ...

مزید پڑھیے

بار دگر

اس ہوٹل کی بیٹھک بازی پر ہم میں سے ہر ایک کی اپنے والدین کے ہاتھوں گوشمالی ہو چکی تھی۔ میری باری سب سے آخر میں آئی۔ پاپا نے گزرتے ہوئے اس ہوٹل کے سامنے میری گاڑی دیکھ لی تھی۔ ’’تمہیں شرم نہیں آتی۔ وہ کوئی بیٹھنے کی جگہ ہے۔ تم کسی اچھے ریستوران میں، اچھے ہوٹل میں اپنے دوستوں کے ...

مزید پڑھیے

پھول کی کوئی قیمت نہیں

لوگ بابا مراد کو اٹھا کر ادھر لے گئے جدھر بھیڑ کم تھی۔ منہ میں پانی ٹپکایا تو آنکھیں کھل گئیں۔ وہ پھول بیچنے والوں کی دکانوں کے قریب سڑک پر چت پڑا تھا۔ ایک پھول فروش نے کہا ’’پانی کا گلاس پی لے ۔ لو لگ گئی ہے‘‘۔ مراد پانی کے چند گھونٹ حلق میں اتار کر کمر پر ہاتھ رکھ کر ہمدردی ...

مزید پڑھیے

ہوا

پہاڑ کا نصف حصہ چڑھنے کے بعد ہم ایک بڑے پتھر کے سامنے سستانے کے لئے رک گئے۔پو پھٹ گئی اور لمحہ بہ لمحہ صبح کا اجالا پھیلنے لگا۔ میں نے اپنے گاؤن کی طرف نظر ڈالی۔ہرے بھرے ڈھلوان کھیت‘ چراگاہیں‘پرانے قلعے کا کھنڈر‘پہاڑی پر واقع مندر‘اسکول کی پرانی شکستہ عمارت جہاں میں نے ...

مزید پڑھیے

پاکستان کہانی

ہم کالج کے پرانے ہال کی سیڑھیاں چڑھ رہے تھے۔ لکڑی کی چوڑی پرانی سیڑھیوں پہ تھپ تھپ بے شمار قدموں کی چاپ تھی۔کتابیں کاپیاں ہاتھوں میں پکڑے، آگے پیچھے باتیں کرتے، ہنستے کھیلتے ہم چڑھے جارہے تھے۔ دگڑ دگڑ لکڑی کے تختوں پہ ہمارے قدم بج رہے تھے۔پرانے ہال کمرے کی اونچی چھت اور دور دور ...

مزید پڑھیے

دھوپ

نالے کا پل بہت اونچائی پہ تھا، چڑھتے چڑھتے اس کا دم پھول گیا ۔ پل پر پہنچ کر وہ رک گیا۔ یہ شہر کی آخری حد تھی۔ یہاں سے اب کھیت اور کھلی زمینیں شروع ہوتی تھیں۔ اس نے سستانے کے انداز میں کمر پر ہاتھ رکھے اور آنکھیں سکیڑ کردور دور تک دوپہر کے چمکتے ہوئے رنگوں کو دیکھا۔ بہارکے موسم ...

مزید پڑھیے

گومڑ

اچانک اسے محسوس ہوا کہ اس کے سر پر کوئی گومڑ سا نکل آیا ہے۔ اس کا ہاتھ غیر ارادی طور پر اپنے سر کے اوپر چلا گیا لیکن سہلانے اور ٹٹولنے کے بعد اس کے ہاتھ نے بتلایا کہ ایسی کوئی بات نہیں۔ اس کا جی بہت چاہا کہ اس پر یقین کرے۔ رہ رہ کے اسے لگ رہا تھا کہ ضرور اس کے سر پر کوئی گومڑ نکلا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6128 سے 6203