قومی زبان

فریاد کی لے

یہ قصہ محمد مخلص نام کے اس مسلمان کا ہے جو کبھی مدینہ نہیں گیاکیونکہ مسافری کے نام کے سکیّ اس کی جیب میں کبھی پائے نہیں گئے۔ پھر بھی ایک راہ اس کے خیال میں اور ایمان کے درمیان سے ہوتی ہوئی اس کے پاؤں کو مدینہ کی طر ف لے جاتی تھی۔البتہ یہ سب کچھ بتانے سے پہلے لازم ہے کہ اس کے بارے ...

مزید پڑھیے

بابا نور

’’کہاں چلے بابا نور؟‘‘ ایک بچے نے پوچھا۔ ’’بس بھئی، یہیں ذرا ڈاک خانے تک۔‘‘ بابا نور بڑی ذمے دارانہ سنجیدگی سے جواب دے کر آگے نکل گیا اور سب بچے کھلکھلا کر ہنس پڑے۔ صرف مولوی قدرت اللہ چپ چاپ کھڑا بابا نور کو دیکھتا رہا۔ پھر وہ بولا، ’’ہنسو نہیں بچو۔ ایسی باتوں پر ہنسا ...

مزید پڑھیے

عالاں

اماں ابھی دہی بلو رہی تھیں کہ وہ مٹی کا پیالہ لئے آ نکلی۔ یہ دیکھ کر کہ ابھی مکھن ہی نہیں نکالا گیا تو لسی کہاں سے ملے گی؟ وہ شش و پنج میں پڑ گئی کہ واپس چلی جائے یا وہیں کھڑی رہے۔ ’’بیٹھ جاؤ عالاں۔‘‘ اماں نے کہا، ’’ابھی دیتی ہوں۔۔۔ کیسی ہو؟‘‘ ’’جی اچھی ہوں۔‘‘ وہ وہیں ...

مزید پڑھیے

پرمیشر سنگھ

اختر اپنی ماں سے یوں اچانک بچھڑ گیا جیسے بھاگتے ہوئے کسی جیب سے روپیہ گر پڑے۔ ابھی تھا اور ابھی غائب۔ ڈھنڈیا پڑی مگر بس اس حد تک کہ لٹے پٹے قافلے کے آخری سرے پر ایک ہنگامہ صابن کی جھاگ کی طرح اٹھا اور بیٹھ گیا۔ ’’کہیں آ ہی رہا ہو گا۔‘‘ کسی نے کہہ دیا، ’’ہزاروں کا تو قافلہ ...

مزید پڑھیے

وحشی

’’آ گئی۔‘‘ ہجوم میں سے کوئی بولا اور سب لوگ یوں دو دو قدم آگے بڑھ گئے جیسے دو دو قدم پیچھے کھڑے رہتے تو کسی غار میں گر جاتے۔ ’’کتنے نمبر والی ہے؟‘‘ ہجوم کے پیچھے سے ایک بڑھیا نے پوچھا۔ ’’پانچ نمبر ہے۔‘‘ بڑھیا کے عقب سے ایک پنواڑی بولا۔ بڑھیا ہڑبڑا کر ہجوم کو چیرتی ...

مزید پڑھیے

گنڈاسا

اکھاڑہ جم چکا تھا۔ طرفین نے اپنی اپنی ’’چوکیاں‘‘ چن لی تھیں۔ ’’پڑکوڈی‘‘ کے کھلاڑی جسموں پر تیل مل کر بجتے ہوئے ڈھول کے گرد گھوم رہے تھے۔ انہوں نے رنگین لنگوٹیں کس کر باندھ رکھی تھیں۔ ذرا ذرا سے سفید پھین ٹھئے ان کے چپڑے ہوئے لانبے لابنے پٹوں کے نیچے سے گزر کر سر کے دونوں طرف ...

مزید پڑھیے

الحمد للہ

شادی سے پہلے مولوی ابل کے بڑے ٹھاٹھ تھے۔ کھّدر یا لٹھے کی تہبند کی جگہ گلابی رنگ کی سبز دھاری والی ریشمی خوشابی لنگی، دو گھوڑا بوسکی کی قمیص، جس کی آستینوں کی چنٹوں کا شمار سینکڑوں میں پہنچتا تھا۔ اودے رنگ کی مخمل کی واسکٹ جس کی ایک جیب میں قطب نما ہوتا تھا تو دوسری جیب میں ...

مزید پڑھیے

کفن دفن

برسوں سے میاں سیف الحق کا معمول تھا کہ ’’الصلوٰۃ خیر من النوم‘‘ کی آواز پر جاگتے اور نیلا رومال کندھے پر رکھ کر مسجد کی راہ لیتے اور ابھی صبح کی کلی پوری طرح چٹک نہ پاتی کہ صندل کی تسبیح پر استغفار کا ورد کرتے ہوئے گھر واپس آتے۔ تازہ اخبار کی آمد تک قرآن شریف کے چند رکوع، دعائے ...

مزید پڑھیے

گل رخے

میں اس قسم کی ہنگامی رقّت کا عادی ہوچکا ہوں۔ کسی کو روتا دیکھ کر، خصوصاً مرد کو اور پھر اتنے تنومند اور وجیہہ مرد کو روتا دیکھ کر دُکھ ضرور ہوتا ہے،مگر اب میں اس بے قراری کے مظاہرے کا اہل نہیں رہا جو ایسے موقعوں پر غیر ڈاکٹر لوگوں سے سرزد ہوجاتی ہے۔ ’’باری سے آؤ خان!‘‘ میں نے ...

مزید پڑھیے

کپاس کا پھول

مائی تاجو ہر رات کو ایک گھنٹے تو ضرور سو لیتی تھی لیکن اس رات غصے نے اسے اتنا سا بھی سونے کی مہلت نہ دی۔ پو پھٹے جب وہ کھاٹ پر سے اتر کر پانی پینے کے لیے گھڑے کی طرف جانے لگی تو دوسرے ہی قدم پر اسے چکر آ گیا تھا اور وہ گر پڑی تھی۔ گرتے ہوئےاس کا سر کھاٹ کے پائے سے ٹکرا گیا تھااور وہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6126 سے 6203