قومی زبان

مہمان داری

مجھے ایک مدت سے سمرد کے کھنڈر دیکھنے کا اشتیاق تھا۔ اتفاق سے ایک دن باتوں باتوں میں میں نے اپنے شوق کا ذکر بوڑھے ڈاکٹر گار سے کیا۔ وہ سنتے ہی بولے، ’’اتنا اشتیاق ہے تو بیٹی وہاں کی سیر کو جاتی کیوں نہیں؟ تمہارے قیام کا انتظام میں کیے دیتا ہوں۔ مادام حمرہ دلی خوشی سے تمہیں اپنا ...

مزید پڑھیے

احتیاط عشق

میں اوپر کی منزل میں عرشۂ چمن پر بیٹھی ایک کتاب پڑھ رہی تھی۔ نیچے پائیں باغ موتیا کے پھولوں کی خوشبو سے مہک رہا تھا۔ اتنے میں باہر کے صدر دروازے پر کسی نے اطلاعی گھنٹی بجائی۔ ’’کیا واہیات ہے۔‘‘ میں نے اپنے دل سے کہا، ’’کتاب کا یہ ورق کتنا دلچسپ تھا۔ تحریر میں روانی کے ساتھ ...

مزید پڑھیے

محبت یا ہلاکت؟

(حیاتِ انسانی کا ایک عبرت انگیز واقعہ)(باب ۱)عشق کیا کیا ہمیں دکھاتا ہےآؤ تم بھی تو اِک نظر دیکھولوگو! میرا دوستانہ مشورہ یہی ہے کہ خدا را دنیا میں سب کچھ کرو۔ آسمانوں پر پہنچ جاؤ، زمین کے نیچے چلے جاؤ، ہوا میں معلق ہو، مریخ و زہرہ کے باشندوں سے یگا نگت پیدا کرو، سب کچھ کرو ...

مزید پڑھیے

کونٹ الیاس کی موت

علالت کا تار اف میرے چچا کی خوف ناک موت! ان کی موت بجائے خود ایک آسیبی حادثہ تھی۔ جب کبھی میں ان پراسرار شیطانی واقعات کا خیال کرتی ہوں جو ان کی موت کے سلسلے میں یا یوں کہیے ان کی موت کے بعد کوہ فیروز میں گزرے تھے، تو آج بھی خوف سے لرز جاتی ہوں۔ رونگٹے جیسے کھڑے ہوجاتے ہیں اور ...

مزید پڑھیے

شکرگزار آنکھیں

(۱) اکتوبر 47 سے پہلے میرے سینے میں ٹپکتے ہوئے سات سات چھالے تھے۔ اور ساتوں نے مل کر دل کو پھوڑا بنا دیا تھا۔ ماں باپ کے قتل کا چھالا۔ جوان بیٹے کے قتل کا چھالا۔ دودھ پیتی بیٹی کے قتل کا چھالا۔ اور جیون سنگھی گھر کی لکشمی کے قتل کا چھالا۔ اللہ اکبر کے نعروں۔ پاک داڑھیوں اور نمازی ...

مزید پڑھیے

ڈھائی سیر آٹا

پروائی چل رہی تھی اس لیے مولا کو بائی نے پکڑ رکھا تھا اور وہ آٹھ دس روز سے کام پر نہیں جا سکا تھا۔ دو تین روز تک جو دو چار پیسے جمع تھے، وہ خرچ ہوئے اور پھر ادھار پرکام چلتارہا۔ دو چار روز کے بعد بنیا بھی حیلے حوالے کرنے لگا۔ مجبوراً ایک دن مولا ٹانگ میں ذرا آرام پاکر صبح تڑکے ...

مزید پڑھیے

بھیک

کیلاش کی لاری پتھورا گڑھ کے خشک بنجر اور تپتے ہوئے پہاڑوں کو ایک درے سے پار کر کے موتی نگر کی وادی میں داخل ہوئی۔ اور داخل ہوتے ہی منظر اور موسم اور مسافروں کا مزاسب کچھ بدل گیا۔ سامنے ایک طرف نندا دیوی اور ترسول کی برف پوش چوٹیاں چمک رہی تھیں اور دوسری طرف ڈھلواں پہاڑوں پر سیب، ...

مزید پڑھیے

بے حد معمولی

پروفیسر دارا مرزا نے پوری طاقت سے برک دبایا اور چلا کر کہا۔ ’’پگلی کہیں کی‘‘۔ برک لگنے سے پروفیسر منظور کو جو دارا کے پاس بیٹھے ہوئے تھے سخت دھکا لگا اور ان کا سراسکرین سے ٹکر اگیا۔ ساتھ ساتھ ان کے منہ سے نکلا۔ ’’کیا مر گئی کم بخت؟‘‘ ایک طرف سے دارا اور دوسری طرف سے پروفیسر ...

مزید پڑھیے

ماں بیٹا

مومنہ آندھی اور پانی میں رات بھر بھاگتی رہی۔ بھیگتی رہی ٹھٹھرتی رہی اور بھاگتی رہی۔ اندھیرا اس غضب کا تھا کہ دو قدم آگے کا درخت تک نہیں سوجھائی دیتا تھا۔ کھیت اور مینڈھ ٹیلا اور کھائی۔ پورب اور پچھم۔ زمین اور آسمان سب ایک غیر محدود سیاہ وسعت میں گم ہو گئے تھے۔ ہر قدم پراسے ...

مزید پڑھیے

اندھیرا اجالا

اب جو سیٹھ جی نے اپنے ریشمی کرتے کے بائیں جانب سینے پر ہاتھ پھیرا تو سدھو کو یقین ہو گیا کہ میرا اندازہ غلط نہیں تھا۔ کرتے کے نیچے بنڈی کی جیب میں ہے کوئی بھاری رقم۔ تبھی تو سیٹھ جی بس اسٹینڈ کی لائن میں کھڑے کھڑے اس کو دو بار ٹٹول چکے ہیں۔ اس بار ٹٹولنے میں ریشمی کرتے پر دو شکنیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6071 سے 6203