قومی زبان

چھپکلی

کار سے اترتی مسز ڈالمیا کے ذہن میں صرف ایک ہی سوچ ہلچل مچائے ہوئے تھی۔۔۔ کلب کے فینسی ڈریس مقالہ میں پہلا انعام حاصل کرناہی ہوگا۔۔۔کسی بھی طرح ۔۔۔صرف ایک ہی دن رہ گیا ہے۔۔۔ اور اب تک کوئی نایاب آئیڈیا گرفت میں نہیں آیا، کام بننے والا نہیں ہے شاید۔ پہلا انعام۔۔۔ جس کے بدلے میں ...

مزید پڑھیے

اللہ میاں کے نام

اللہ میاں۔۔۔۔ میں رجو، بشیر کی بیوہ۔ پتہ ہے محلے کا مولوی آج جمعے میں کہہ رہا تھا کہ آپ شہ رگ سے زیادہ قریب ہیں، آپ سب کچھ دیکھ سکتے ہیں اور آپ ہر چیز پر قادر بھی ہیں۔ اللہ میاں کیا یہ سچ ہے؟ اس مولوی کی بات کا تو مجھے کوئی اعتبار نہیں۔ فضل بھائی کی لڑکی تو اس کی وجہ سے مر گئی اور وہ ...

مزید پڑھیے

کلیشے

تم کون ہو؟ اندھیری رات میں فٹ پاتھ پر ایک ضعیف مگر بدہیت آدمی سے اس کے ساتھ ہی لیٹے دوسرے شخص نے پوچھا۔ سڑک کنارے آتی، جاتی گاڑیوں کی روشنی میں وہ بہت دیر سے اس بوڑھے کو دیکھ رہا تھا۔ بوڑھے کی سرخ آنکھوں میں ذہانت کی چمک تھی مگر چہرے سے وحشت ٹپکنے کا احساس بھی ہوتا تھا۔ سفید اور ...

مزید پڑھیے

خدا کا جنم

31 اگست، آج خدا کی برسی ہے۔ آج سے ٹھیک پچیس سال پہلے میں نے خدا کو مار دیا تھا اور ہر سال خدا کی برسی بڑی دھوم دھام سے مناتا ہوں۔ کسی کو معلوم نہیں کہ یہ برسی کس کی ہے؟ کوئی نہیں جاتنا، معلوم صرف مجھے ہے کہ خدا کو میں نے مارا تھا۔ چھ سال کی عمر میں ایک دفعہ مجھے گلی کے ایک کونے سے ...

مزید پڑھیے

ایک شوہر کی خاطر

اور یہ سب کچھ بس ذرا سی بات پر ہوا۔۔۔ مصیبت آتی ہے تو کہہ کر نہیں آتی۔۔۔ پتہ نہیں وہ کون سی گھڑی تھی کہ ریل میں قدم رکھا اچھی بھلی زندگی مصیبت ہوگئی۔ بات یہ ہوئی کہ اگلے نومبر میں جودھ پور سے بمبئی آرہی تھی سب نے کہا۔۔۔ ’’دیکھو پچھتاؤگی مت جاؤ۔۔۔‘‘ مگر جب چیونٹی کے پر نکلتے ...

مزید پڑھیے

مغل بچہ

وہ مرتے مرگیا مگر مغلیہ شہنشاہیت کی ضد کو بر قرار رکھا۔ فتح پور سیکری کے سنسان کھنڈروں میں گوری دادی کا مکان پرانے سوکھے زخم کی طرح کھٹکتا تھا۔ کگیا اینٹ کا دو منزلہ گھٹا گھٹا سا مکان ایک مار کھائے روٹھے ہوئے بچے کی طرح لگتا تھا۔ دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا تھا وقت کا بھونچال اس کی ...

مزید پڑھیے

بھول بھلیاں

’’لفٹ رائٹ، لفٹ رائٹ۔ کویک مارچ!‘‘ اڑا اڑادھم! فوج کی فوج کرسیوں اور میزوں کی خندق اور کھائیوں میں دب گئی اور غل پڑا۔ ’’کیا اندھیر ہے۔ ساری کرسیوں کا چورا کیے دیتے ہیں۔ بیٹی رفیعہ ذرا ماریو تو ان مارے پیٹوں کو۔‘‘ چچی ننھی کو دودھ پلارہی تھیں۔ میرا ہنسی کےمارے براحال ...

مزید پڑھیے

بچھو پھوپی

جب پہلی بار میں نے انہیں دیکھا تو وہ رحمان بھائی کے پہلے منزلے کی کھڑکی میں بیٹھی لمبی لمبی گالیاں اور کوسنے دے رہی تھیں۔ یہ کھڑکی ہمارے صحن میں کھلتی تھی اور قانونا اسے بند رکھا جاتا تھا کیوں کہ پردے والی بی بیوں کا سامنا ہونے کا ڈر تھا۔ رحمان بھائی رنڈیوں کے جمعدار تھے، کوئی ...

مزید پڑھیے

گھونگھٹ

سفید چاندنی بچھے تخت پر بگلے کے پروں سے زیادہ سفید بالوں والی دادی بالکل سنگ مرمر کا بھدا سا ڈھیر معلوم ہوتی تھیں۔ جیسے ان کے جسم میں خون کی ایک بوند نہ ہو۔ ان کی ہلکی سرمئی آنکھوں کی پتلیوں تک پر سفیدی رینگ آئی تھی اور جب وہ اپنی بے نورآنکھیں کھولتیں تو ایسا معلوم ہوتا، سب روزن ...

مزید پڑھیے

ساس

سورج کچھ ایسے زاویہ پر پہنچ گیا کہ معلوم ہوتا تھا کہ چھ سات سورج ہیں جو تاک تاک کر بڑھیا کے گھر میں ہی گرمی اور روشنی پہنچانے پر تلے ہوئے ہیں۔ تین دفعہ کھٹولی دھوپ کے رخ سے گھسیٹی، اور اے لو وہ پھر پیروں پر دھوپ اور جو ذرا اونگھنے کی کوشش کی تو دھمادھم اور ٹھٹوں کی آواز چھت پر سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 6052 سے 6203