قومی زبان

لالہ امام بخش

رمواپور کے لالہ دیبی بخش جب مچھر ہٹہ پہنچے تو دیکھا کہ ان کا ’’موکل‘‘ ملو بھر جی لائی کا تعزیہ بنارہا تھا۔ ہندو بھرجی کو مسلمانوں کے کرم کرتے دیکھا تو جل کر رہ گیے۔ چنے کی طرح چٹختی آواز میں مقدمے کی پیروی کو بقایا کاتقاضہ کردیا۔ ملوبے چارہ للو چپو کرنے لگا۔ اور بتلاتے بتلاتے ...

مزید پڑھیے

ٹھاکر دوارہ

بڑے باغ کے دھورے پر ڈھول تو سانجھ سے بج رہے تھے لیکن اب ان کی گدے کھائی آواز میں لیزم کی تولی گوٹ بھی ٹانکی جانے لگی۔ پتمبر پاسی نے چلم منہ سے نکال کر کان کھڑے کیے اور کہزلی۔ اب گدے کھائی آواز پر لگی تو گوٹ کے اوپر مدراپاسی کی چہچہاتی آواز کے گول گول ٹھپے بھی پڑنے لگے تھے۔ پتمبر نے ...

مزید پڑھیے

رضو باجی

سیتاپور میں تحصیل سدھولی اپنی جھیلوں اور شکاریوں کے لئے مشہور تھی۔ اب جھیلوں میں دھان بویا جاتا ہے۔ بندوقیں بیچ کر چکیّاں لگائی گئی ہیں، اور لائسنس پر ملے ہوئے کارتوس ’’بلیک‘‘ کر کے شیروانیاں بنائی جاتی ہیں۔ یہاں چھوٹے چھوٹے قصبوں کا زنجیرا پھیلا ہوا تھا، جن میں شیوخ آباد ...

مزید پڑھیے

نومی

وہ عجیب تھی۔ جسم دیکھیے تو ایک لڑکی سی معلوم ہوتی، چہرے پر نظر ڈالیے تو بالکل بچی سی دکھائی دیتی اور اگر آنکھوں میں اترجائیے تو ساری سموچی عورت انگڑائیاں لیتی ملتی۔ وہ سرخ اونچا سا فراک اور سیاہ سلیکس پہنے جگمگارہی تھی اور سیاہ گھنگھرالے بالوں کو جھٹک جھٹک کر ’’جیپ‘‘ میں ...

مزید پڑھیے

ماڈل ٹاؤن

کانٹے دار تاروں کی گھنی باڑھ دیکھ کر راستہ بھول جانے کااحساس ہوا۔ اس نے مڑ کر دیکھا ’’ڈی بلاک‘‘ کی یکساں یک رنگ چہار منزلہ عمارتوں کاجنگل کھڑا تھا۔ دروازوں دریچوں اور بالکنیوں میں کھڑے ہوئے بچے دور سے رنگ برنگ پھولوں کے گچھوں کے مانند نظر آرہے تھے۔ وہ آدھی عمارت کاچکر کاٹ کر ...

مزید پڑھیے

آنکھیں

طاؤس کی غمناک موسیقی چند لمحوں کے بعد رک جاتی ہے۔ ’’سبحان اللہ۔۔۔ جہاں پناہ۔۔۔ سبحان اللہ۔‘‘ ’’بیگم‘‘ (بھاری اور رنجورآواز میں ) ’’جہاں پناہ۔۔۔ اگر ہندوستان کے شہنشاہ نہ ہوتے تو ایک عظیم مصنف، عظیم شاعر، عظیم مصور اور عظیم موسیقار ہوتے۔‘‘ ’’یہ تعریف ہے یا ...

مزید پڑھیے

مجو بھیا

پنڈت آنند سہائے تعلقدار ککراواں کے مرتے ہی شیخ سرور علی نے مختاری کے چونچلوں کو سلام کیا اور کمر کھول دی۔ رئیس پنڈت درگا سہائے نے جھوٹ موٹ کی بھی کی لیکن شیخ جی (وہ ککراواں میں اسی نام سے بجتے تھے) اپنے ٹانگن پر سوار ہوکر مان پور آہی گیے۔ شروع شروع میں شیخ کو مان پور میں ایسا لگا ...

مزید پڑھیے

اور عائشہ آگئی

کھوکھرا پار کے مقام پر سرحد عبور کرتے ہوئے ہندوستانی کسٹم چوکی والوں نے عبدالکریم اور اس کی بیوی کو تو جانے دیا۔ لیکن ان کی تین چیزوں کو مزید تحقیق کے لیے اپنے پاس رکھ لیا۔ یہ تین چیزیں سنگر سوئنگ مشین، ہرکولیس کا بائیسکل اور عبدالکریم کی جواں سال بیٹی عائشہ پر مشتمل ...

مزید پڑھیے

ماں جی

ماں جی کی پیدائش کا صحیح سال معلوم نہ ہو سکا۔ جس زمانے میں لائل پور کا ضلع نیا نیا آباد ہو رہا تھا، پنجاب کے ہر قصبے سے غریب الحال لوگ زمین حاصل کرنے کے لئے اس نئی کالونی میں جوق در جوق کھنچے چلے آ رہے تھے۔ عرف عام میں لائل پور، جھنگ، سرگودھا وغیرہ کو بار کا علاقہ کہا جاتا تھا۔ اس ...

مزید پڑھیے

پگلی

بال سر کے منڈے ہوئے، وہ سڑکوں پر دن رات آوارہ گھوما کرتی کبھی کبھی اس پر دیوانگی کے شدید دورے پڑتے، اور وہ راہگیروں کی پتھروں سے اس بری طرح خبر لیتی کہ راستہ بند ہو جاتا۔ اس کی عمر صرف گیارہ سال تھی لیکن وہ بھوک اور بیماری کے باعث کسی طرح نو سال کی بچی سے زیادہ نہ دکھائی دیتی۔ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5977 سے 6203