قومی زبان

کھول دو

امرتسر سے اسپیشل ٹرین دوپہر دو بجے کو چلی اور آٹھ گھنٹوں کے بعد مغل پورہ پہنچی۔ راستے میں کئی آدمی مارے گیے۔ متعدد زخمی ہوئے اور کچھ ادھر ادھر بھٹک گیے۔ صبح دس بجے۔۔۔ کیمپ کی ٹھنڈی زمین پر جب سراج الدین نے آنکھیں کھولیں اور اپنے چاروں طرف مردوں، عورتوں اور بچوں کا ایک متلاطم ...

مزید پڑھیے

بدصورتی

ساجدہ اورحامدہ دو بہنیں تھیں۔ ساجدہ چھوٹی اور حامدہ بڑی۔ ساجدہ خوش شکل تھی۔ ان کے ماں باپ کو یہ مشکل درپیش تھی کہ ساجدہ کے رشتے آتے مگر حامدہ کے متعلق کوئی بات نہ کرتا۔ ساجدہ خوش شکل تھی مگر اس کے ساتھ اسے بننا سنورنا بھی آتا تھا۔ اس کے مقابلے میں حامدہ بہت سیدھی سادی تھی۔ اس کے ...

مزید پڑھیے

باسط

باسط بالکل رضا مند نہیں تھا، لیکن ماں کے سامنے اس کی کوئی پیش نہ چلی۔ اول اول تو اس کو اتنی جلدی شادی کرنے کی کوئی خواہش نہیں تھی، اس کے علاوہ وہ لڑکی بھی اسے پسند نہیں تھی جس سے اس کی ماں اس کی شادی کرنے پر تلی ہوئی تھی۔ وہ بہت دیر تک ٹالتا رہا۔ جتنے بہانے بنا سکتا تھا۔ اس نے ...

مزید پڑھیے

آخری سلیوٹ

یہ کشمیر کی لڑائی بھی عجیب وغریب تھی۔ صوبیدار رب نواز کا دماغ ایسی بندوق بن گیا تھا جس کا گھوڑا خراب ہوگیا ہو۔ پچھلی بڑی جنگ میں وہ کئی محاذوں پر لڑ چکا تھا۔ مارنا اور مرنا جانتا تھا۔ چھوٹے بڑے افسروں کی نظروں میں اس کی بڑی توقیرتھی، اس لیے کہ وہ بڑا بہادر، نڈر اورسمجھدارسپاہی ...

مزید پڑھیے

ٹھنڈا گوشت

ایشر سنگھ جونہی ہوٹل کے کمرے میں داخل ہوا، کلونت کور پلنگ پر سے اٹھی۔ اپنی تیز تیز آنکھوں سے اس کی طرف گھور کے دیکھا اور دروازے کی چٹخنی بند کردی۔ رات کے بارہ بج چکے تھے، شہر کا مضافات ایک عجیب پراسرار خاموشی میں غرق تھا۔ کلونت کور پلنگ پر آلتی پالتی مار کربیٹھ گئی۔ ایشرسنگھ جو ...

مزید پڑھیے

آمنہ

دور تک دھان کے سنہرے کھیت پھیلے ہوئے تھے، جمّے کا نوجوان لڑکا بُندو کٹے ہوئے دھان کے پولے اٹھا رہا تھا اور ساتھ ہی ساتھ گا بھی رہا تھا، دھان کے پولے دھر دھر کاندھے بھر بھر لائے کھیت سنہرا،دھن دولت رے بندو کا باپ جُما گاؤں میں بہت مقبول تھا۔ ہر شخص کو معلوم تھا کہ اس کو اپنی ...

مزید پڑھیے

اس کا پتی

لوگ کہتے تھے کہ نتھو کا سر اس لیے گنجا ہوا ہے کہ وہ ہر وقت سوچتا رہتا ہے۔ اس بیان میں کافی صداقت ہےکیونکہ سوچتے وقت نتھو سر کھجلایا کرتا ہے۔ چونکہ اس کے بال بہت کھردرے اور خشک ہیں اور تیل نہ ملنے کے باعث بہت خستہ ہو گئے ہیں اس لیے بار بار کھجلانے سے اس کے سر کا درمیانی حصّہ بالوں ...

مزید پڑھیے

قرض کی پیتے تھے۔۔۔

ایک جگہ محفل جمی تھی۔ مرزا غالب وہاں سے اکتا کر اُٹھے۔ باہر ہوا دار موجود تھا۔ اس میں بیٹھے اور اپنے گھر کا رخ کیا۔ ہوادارسے اتر کر جب دیوان خانے میں داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ متھر ا داس مہاجن بیٹھا ہے۔ غالب نے اندر داخل ہوتے ہی کہا،’’اخاہ متھرا داس ! بھئی تم آج بڑے وقت پر ...

مزید پڑھیے

چور

رات کے دس بجے کا وقت تھا۔ میں اپنی کلینک میں اکیلی بیٹھی تھی اور ایک میڈیکل جرنل کا مطالعہ کر رہی تھی کہ دروازہ کھلا اور ایک آدمی ایک بچہ لے کر داخل ہوا۔ مجھ کو اپنی نرس پر غصہ آیا کہ یہ دروازہ کھلا چھوڑ گئی۔ میرے مریض دیکھنے کا وقت مدت ہوئی ختم ہو چکا تھا۔ میں نے رکھائی سے ...

مزید پڑھیے

پانی پر لکھا نام

دریا، وقت کے بہاؤ کی طرح متواتر بہتا جا رہا ہے۔ اور میں اس کے پانی پر اپنا نام لکھنےکی بے سود کوشش کر رہاتھا۔ میرے حروف لکھے جانے سے پہلے ہی یوں مٹتے جارہے تھے جیسے کہتے ہوں اہم اور غیر اہم کام ماضی کاحصہ بنتے ہی پگڈنڈی پر بننےوالے زندگی کےنشانوں کی طرح مسافروں کے منزل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5958 سے 6203