قومی زبان

جلدی کرو

زمین پر تیس پینتیس بچوں کی لاشیں قطار سے رکھی، سورماؤں کو داد شجاعت دے رہی تھیں۔ دونوں جانب رائفلوں پر سنگینیں چڑھائے سپاہی پہرہ دے رہے تھے۔ کوئی بیس گز دور جلے ہوئے برگد کے نیچے دس پندرہ مزدور جلدی جلدی گڈھا کھود رہے تھے اور کچھ باوردی افسر بار بار مزدوروں کو جلدی کرنے کی ...

مزید پڑھیے

بنت زلیخا

’’سمسو کی ماں کو معلوم کہ ہم کھیریت سے ہیں اور تم لوگوں کا کھیریت نیک چاہتا ہوں۔‘‘ ابا کی طرف سے سمسو کو بہت بہت دعا۔ اور ضروری بات یہ ہے کہ سجان میاں کا بیٹا اسلام کے ہاتھ چالیس روپیہ بھیج دیا ہے، جو ملا ہوگا۔ باڑی والا کا کرایہ دے دو اور منّی کو ڈاگدر کو دکھا کے دوا کھلاؤ۔ اس ...

مزید پڑھیے

پیاس

’’اے مہاگیانی! جب میں دانتوں پر دانت جما کر اور تالو کو زبان سے لگا کر، دل و دماغ کو قابو میں کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو مجھے پسینہ آنے لگتا ہے۔ جب میں سانس روک کر تپسّیا کرتا ہوں تو میرے کانوں سے سانس نکلنے کی آواز آتی ہے ... پھر اے گرو دیو، جب میں سانس روک کر اور کانوں کو ہاتھ سے دبا ...

مزید پڑھیے

گرتی دیواریں

خلیفہ جی کو محلے کے سارے لوگ جانتے تھے۔ بچے، بوڑھے، مرد عورت سب ہی انھیں خلیفہ جی کہتے۔ ویسے نام تو ان کا علی محمد تھا مگر کوئی انھیں نام لے کر نہیں پکارتا تھا۔ حتی کہ ان کے بیٹے بھی اکثر انھیں خلیفہ جی ہی کہتے تھے۔ جب کوئی بچہ اپنی توتلی زبان میں کھلیپا جی کہتا تو خلیفہ جی عجیب ...

مزید پڑھیے

سیّد کی حویلی

’’بہو، اری او بہو‘‘۔ آواز تیز تھی۔ ’’’’جی بیگم صاحب ‘‘! آواز کمزور تھی۔ ’’میں پوچھتی ہوں تمھاری بکریاں آنگن میں کیوں آئیں‘‘۔ آواز میں بے پناہ خفگی تھی۔ ’’کیا کریں بیگم صاحب گلتی ہو گئی‘‘۔ آواز میں معذرت تھی۔ ’’مگر غلطی ہوئی کیوں؟ دیکھو تمھاری بکریوں نے گل داؤدی کا ...

مزید پڑھیے

مٹی کی خوشبو

گرمی کی دوپہر نے قبرستان کو مزید ویران بنادیا تھا۔ قبرستان کافی بڑا اور دُور تک پھیلا ہوا تھا۔ اِکاّ دُکاّ قبریں پختہ تھیں مگر بیشتر قبریں کچی مٹی کی تھیں۔ بیشتر قبریں دھنس گئی تھیں جنہیں جھاڑیوں نے چھپا لیا تھا۔ قبروں پر اُگی ہوئی ہریالی، گرمی میں جھلس گئی تھی جس نے ویرانی ...

مزید پڑھیے

جینی

ہوائی جہاز پر سوار ہوتے وقت مجھے کچھ شبہ ہوا۔ نیلے لباس والے لڑکی سے پوچھا تو اس نے بھی اثبات میں سر ہلایا،جب ہم جہاز سے اترے تو مجھے یقین ہو گیا اور میں نے پائپ پیتے آکسفورڈ لہجے میں انگریزی بولتے ہوئے پائیلٹ کو دبوچ لیا۔ ہم مدتوں کے بعد ملے تھے۔کالج میں دیر تک اکٹھے رہے۔ کچھ ...

مزید پڑھیے

میاں جی

بچپن کی ملائمت اور نرمی چہرے پر اُگنے والے روئیں نے کم کر دی تھی۔اُس کی جگہ ایک عجیب سی جاذبیت نے لے لی تھی گو میاں جی اُسے منع کیا تھا کہ ابھی اُسترا نہ مارے لیکن اُسے چہرے پر اُگا ہوا بے ترتیب جھاڑ جھنکار اچھا نہیں لگتا تھااپنے ایک دوست کی مدد سے اِس روئیں سے چھٹکارا پانے کی ...

مزید پڑھیے

خواب گر کی موت

گھڑی کی سوئی پھر بارہ پر آچکی تھی، ایک اور دائرہ مکمل ہوا ’’یہ دائرے مکمل ہوتے بھی نامکمل کیوں ہوتے ہیں؟ ،، ایک عجیب سا سوال ذہن میں کلبلایا ’’کہیں کوئی لکیر ادھوری رہ جاتی ہے ، کچھ نہ کچھ ہمیشہ ان کہا رہ جاتا ہے،، ’’لیکن نہیں .........آج سب کچھ مکمل ہونا چاہئیے، شاید مکمل ہی ہے، ...

مزید پڑھیے

بھوک اور خدا

گہرے رنج کی بُکل میں سرسراتے وسوسے ڈسنے لگے تھے بقا داؤ پر لگی ہو تو سانسوں میں زہر گھل جاتا ہے اور فیصلہ دشوار تر............ ہوا اس کے دل کی طرح بوجھل تھی شام اندھیرا اوڑھے پربتوں سے سرک کر راستوں پر بچھی تو لوگ تھکے تھکے قدموں سے گھروں کو لوٹنے لگے زولو اُن کے دلوں میں پنپتے گہرے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5934 سے 6203