قومی زبان

خشک کھیتی ہے مگر اس کو ہری کہتے ہیں

خشک کھیتی ہے مگر اس کو ہری کہتے ہیں کم نگاہی کو بھی وہ دیدہ وری کہتے ہیں فکر روشن کو وہ شوریدہ سری کہتے ہیں یعنی سورج کو چراغ سحری کہتے ہیں جو ترے در سے اٹھا پھر وہ کہیں کا نہ رہا اس کی قسمت میں رہی در بدری کہتے ہیں کتنی بے رحم ہے فطرت انہیں معلوم نہیں جو اسے کارگہ شیشہ گری کہتے ...

مزید پڑھیے

کچھ لوگ تغیر سے ابھی کانپ رہے ہیں

کچھ لوگ تغیر سے ابھی کانپ رہے ہیں ہم ساتھ چلے تو ہیں مگر ہانپ رہے ہیں نعروں سے سیاست کی حقیقت نہیں چھپتی عریاں ہے بدن لاکھ اسے ڈھانپ رہے ہیں کیا بات ہے شہروں میں سمٹ آئے ہیں سارے جنگل میں تو گنتی کے ہی کچھ سانپ رہے ہیں مکڑی کہیں مکھی کو گرفتار نہ کر لے وہ شوخ نگاہوں سے مجھے ...

مزید پڑھیے

داستان شوق کتنی بار دہرائی گئی

داستان شوق کتنی بار دہرائی گئی سننے والوں میں توجہ کی کمی پائی گئی فکر ہے سہمی ہوئی جذبہ ہے مرجھایا ہوا موج کی شورش گئی دریا کی گہرائی گئی حسن بھی ہے مصلحت بیں عشق بھی دنیا شناس آپ کی شہرت گئی یاروں کی رسوائی گئی ہم تو کہتے تھے زمانہ ہی نہیں جوہر شناس غور سے دیکھا تو اپنے میں ...

مزید پڑھیے

سفر طویل سہی حاصل سفر کیا تھا

سفر طویل سہی حاصل سفر کیا تھا ہمارے پاس بجز دولت نظر کیا تھا لبوں سے یوں تو برستے تھے پیار کے نغمے مگر نگاہوں میں یاروں کے نیشتر کیا تھا یہ ظلمتوں کے پرستار کیا خبر ہوتے مری نوا میں بجز مژدۂ سحر کیا تھا ہر ایک ابر میں ہے اک لکیر چاندی کی وگرنہ اپنی دعاؤں میں بھی اثر کیا ...

مزید پڑھیے

لو اندھیروں نے بھی انداز اجالوں کے لیے

لو اندھیروں نے بھی انداز اجالوں کے لیے کیسی افتاد پڑی دیکھنے والوں کے لیے تازہ کاری نے وہاں کر دیئے عالم ایجاد ہم ترستے ہی رہے تازہ خیالوں کے لیے شاہراہوں سے گزرتے ہیں شب و روز ہجوم نئی راہیں ہیں فقط چند جیالوں کے لیے کام ماضی کی یہ سادہ نگہی کیا آتی عصر حاضر ترے پیچیدہ ...

مزید پڑھیے

ہم برق و شرر کو کبھی خاطر میں نہ لائے

ہم برق و شرر کو کبھی خاطر میں نہ لائے اس فتنۂ دوراں کو مگر دیکھ نہ پائے گو قطرے میں دریاؤں کا طوفان سمائے پر شوق کی روداد کب الفاظ میں آئے زلفوں کو دیا ہے رخ زیبا نے عجب رنگ جلووں سے ترے اور بھی روشن ہوئے سائے یہ عشق کے شعلے بھی عجب چیزیں ہیں یعنی جو آگ لگائے وہی خود آگ ...

مزید پڑھیے

میری بیٹی

میری بیٹی جب بڑی ہو جائے گی سارے گھر میں چاندنی پھیلائے گی ہر نظر میں روشنی آ جائے گی حور جنت سے نچھاور لائے گی میری بیٹی جب بڑی ہو جائے گی باپ کے دل کی کلی کھل جائے گی ماں کی نظروں میں جوانی آئے گی اور وہ تعلیم اعلیٰ پائے گی اس کی شادی کی گھڑی پھر آئے گی میری بیٹی جب بڑی ہو ...

مزید پڑھیے

چار فتنے

تین فتنوں کا قصہ پرانا ہوا چار فتنوں کا سنیے ذرا ماجرا ایک لمبے ہیں عالم بھی فاضل بھی ہیں سچ تو یہ ہے کہ تھوڑے سے کاہل بھی ہیں شعر کا شوق بھی علم کا ذوق بھی اور گلے میں علی گڑھ کا ہے طوق بھی مرغ و ماہی کی رگ رگ سے یہ آشنا دوستوں پر فدا اور گھر سے جدا کھانے پینے کا کوئی نہیں ہے ...

مزید پڑھیے

ٹیپو کی آواز

گو رات کی جبیں سے سیاہی نہ دھل سکی لیکن مرا چراغ برابر جلا کیا جس سے دلوں میں اب بھی حرارت کی ہے نمود برسوں مری لحد سے وہ شعلہ اٹھا کیا پھیکا ہے جس کے سامنے عکس جمال یار عزم جواں کو میں نے وہ غازہ عطا کیا میرے لہو کی بوند میں غلطاں تھیں بجلیاں خاک دکن کو میں نے شرر آشنا کیا ساحل ...

مزید پڑھیے

چار یار

نمبر ایک بڑا ہی نیک کھائے کیک پئے ملک شیک نمبر دو کہے کو رو منگاؤ کو کو پلاؤ سب کو مجھے بھی دو مجھے بھی دو نمبر تین بڑی مسکین پہنے مارکین بجائے بین جائے چین نمبر چار بڑی ہوشیار ابھی پھلوار ابھی تلوار ہماری یار ہماری یار

مزید پڑھیے
صفحہ 5879 سے 6203