وہم و گماں جو حد سے گزرتے چلے گئے
وہم و گماں جو حد سے گزرتے چلے گئے ہم ریزہ ریزہ ہو کے بکھرتے چلے گئے جلوہ تمہارا ایک نظر دیکھنے کے بعد دل میں نقوش عشق نکھرتے چلے گئے اعجاز کم نہیں تھا کچھ ان کے جمال کا ہم دید کی طلب میں سنورتے چلے گئے دیں منزلوں نے ان کو صدائیں بہت مگر دیوانے اپنی دھن میں گزرتے چلے گئے شاید ...