قومی زبان

پتھر ہیں سبھی لوگ کریں بات تو کس سے (ردیف .. ن)

پتھر ہیں سبھی لوگ کریں بات تو کس سے اس شہر خموشاں میں صدا دیں تو کسے دیں ہے کون کہ جو خود کو ہی جلتا ہوا دیکھے سب ہاتھ ہیں کاغذ کے دیا دیں تو کسے دیں سب لوگ سوالی ہیں سبھی جسم برہنہ اور پاس ہے بس ایک ردا دیں تو کسے دیں جب ہاتھ ہی کٹ جائیں تو تھامے گا بھلا کون یہ سوچ رہے ہیں کہ عصا ...

مزید پڑھیے

باہر بھی اب اندر جیسا سناٹا ہے

باہر بھی اب اندر جیسا سناٹا ہے دریا کے اس پار بھی گہرا سناٹا ہے شور تھمے تو شاید صدیاں بیت چکی ہیں اب تک لیکن سہما سہما سناٹا ہے کس سے بولوں یہ تو اک صحرا ہے جہاں پر میں ہوں یا پھر گونگا بہرا سناٹا ہے جیسے اک طوفان سے پہلے کی خاموشی آج مری بستی میں ایسا سناٹا ہے نئی سحر کی چاپ ...

مزید پڑھیے

وہ کچھ گہری سوچ میں ایسے ڈوب گیا ہے

وہ کچھ گہری سوچ میں ایسے ڈوب گیا ہے بیٹھے بیٹھے ندی کنارے ڈوب گیا ہے آج کی رات نہ جانے کتنی لمبی ہوگی آج کا سورج شام سے پہلے ڈوب گیا ہے وہ جو پیاسا لگتا تھا سیلاب زدہ تھا پانی پانی کہتے کہتے ڈوب گیا ہے میرے اپنے اندر ایک بھنور تھا جس میں میرا سب کچھ ساتھ ہی میرے ڈوب گیا ہے شور ...

مزید پڑھیے

ملن کی ساعت کو اس طرح سے امر کیا ہے

ملن کی ساعت کو اس طرح سے امر کیا ہے تمہاری یادوں کے ساتھ تنہا سفر کیا ہے سنا ہے اس رت کو دیکھ کر تم بھی رو پڑے تھے سنا ہے بارش نے پتھروں پر اثر کیا ہے صلیب کا بار بھی اٹھاؤ تمام جیون یہ لب کشائی کا جرم تم نے اگر کیا ہے تمہیں خبر تھی حقیقتیں تلخ ہیں جبھی تو! تمہاری آنکھوں نے خواب ...

مزید پڑھیے

اک کرب مسلسل کی سزا دیں تو کسے دیں

اک کرب مسلسل کی سزا دیں تو کسے دیں مقتل میں ہیں جینے کی دعا دیں تو کسے دیں پتھر ہیں سبھی لوگ کریں بات تو کس سے اس شہر خموشاں میں صدا دیں تو کسے دیں ہے کون کہ جو خود کو ہی جلتا ہوا دیکھے سب ہاتھ ہیں کاغذ کے دیا دیں تو کسے دیں سب لوگ سوالی ہیں سبھی جسم برہنہ اور پاس ہے بس ایک ردا دیں ...

مزید پڑھیے

جیون کو دکھ دکھ کو آگ اور آگ کو پانی کہتے

جیون کو دکھ دکھ کو آگ اور آگ کو پانی کہتے بچے لیکن سوئے ہوئے تھے کس سے کہانی کہتے سچ کہنے کا حوصلہ تم نے چھین لیا ہے ورنہ شہر میں پھیلی ویرانی کو سب ویرانی کہتے وقت گزرتا جاتا اور یہ زخم ہرے رہتے تو بڑی حفاظت سے رکھی ہے تیری نشانی کہتے وہ تو شاید دونوں کا دکھ اک جیسا تھا ورنہ ہم ...

مزید پڑھیے

تو میرا ہے

تو میرا ہے تیرے من میں چھپے ہوئے سب دکھ میرے ہیں تیری آنکھ کے آنسو میرے تیرے لبوں پہ ناچنے والی یہ معصوم ہنسی بھی میری تو میرا ہے ہر وہ جھونکا جس کے لمس کو اپنے جسم پہ تو نے بھی محسوس کیا ہے پہلے میرے ہاتھوں کو چھو کر گزرا تھا تیرے گھر کے دروازے پر دستک دینے والا ہر وہ لمحہ جس ...

مزید پڑھیے

ایک نظم

دانشور کہلانے والو تم کیا سمجھو مبہم چیزیں کیا ہوتی ہیں تھل کے ریگستان میں رہنے والے لوگو تم کیا جانو ساون کیا ہے اپنے بدن کو رات میں اندھی تاریکی سے دن میں خود اپنے ہاتھوں سے ڈھانپنے والو عریاں لوگو تم کیا جانو چولی کیا ہے دامن کیا ہے شہر بدر ہو جانے والو فٹ پاتھوں پر سونے ...

مزید پڑھیے

طلسم ہوش ربا ہے کمال رکھتا ہے

طلسم ہوش ربا ہے کمال رکھتا ہے بدن سے عشق نہ کرنا زوال رکھتا ہے کہیں کا رہنے نہ دے گا ہمیں یہ ذہن رسا جواب جن کے نہیں وہ سوال رکھتا ہے خرد سے تھک کے ہم آتے ہیں دل کے دامن میں یہ غم گسار ہمارا خیال رکھتا ہے گرا ہے اپنی ہی نظروں میں جانے کتنی بار وہی جو آج عروج و کمال رکھتا ہے ثبوت ...

مزید پڑھیے

عہد الفت میں یہ خدشہ کب تھا

عہد الفت میں یہ خدشہ کب تھا تم سے بچھڑیں گے یہ سوچا کب تھا رات آئینہ جو دیکھا تو لگا اتنا ویراں میرا چہرہ کب تھا مجھ پہ الزام لگانے والے تو مجھے ٹھیک سے سمجھا کب تھا یاد آئیں گی وہ رم جھم آنکھیں گھر سے چلتے ہوئے سوچا کب تھا اس کو نزدیک سے دیکھا عارفؔ آج جیسا ہے کل ایسا کب تھا

مزید پڑھیے
صفحہ 5868 سے 6203