اور ارمان اک نکل جاتا
اور ارمان اک نکل جاتا اک کلی ہنس کے اور کھل جاتی کاش اس تنگ دل زمانے سے اک حسیں شام اور مل جاتی
اور ارمان اک نکل جاتا اک کلی ہنس کے اور کھل جاتی کاش اس تنگ دل زمانے سے اک حسیں شام اور مل جاتی
ہنس ہنس کے جام جام کو چھلکا کے پی گیا وہ خود پلا رہے تھے میں لہرا کے پی گیا توبہ کے ٹوٹنے کا بھی کچھ کچھ ملال تھا تھم تھم کے سوچ سوچ کے شرما کے پی گیا ساغر بدست بیٹھی رہی میری آرزو ساقی شفق سے جام کو ٹکرا کے پی گیا وہ دشمنوں کے طنز کو ٹھکرا کے پی گئے میں دوستوں کے غیظ کو بھڑکا کے ...
زلف برہم سنبھال کر چلئے راستہ دیکھ بھال کر چلئے موسم گل ہے اپنی بانہوں کو میری بانہوں میں ڈال کر چلئے مے کدے میں نہ بیٹھیے تاہم کچھ طبیعت بحال کر چلئے کچھ نہ دیں گے تو کیا زیاں ہوگا حرج کیا ہے سوال کر چلئے ہے اگر قتل عام کی نیت جسم کی چھب نکال کر چلئے کسی نازک بدن سے ٹکرا ...
ہلکا ہلکا سرور ہے ساقی بات کوئی ضرور ہے ساقی تیری آنکھوں کو کر دیا سجدہ میرا پہلا قصور ہے ساقی تیرے رخ پر ہے یہ پریشانی اک اندھیرے میں نور ہے ساقی تیری آنکھیں کسی کو کیا دیں گی اپنا اپنا سرور ہے ساقی پینے والوں کو بھی نہیں معلوم مے کدہ کتنی دور ہے ساقی
دیکھ کر دلکشی زمانے کی آرزو ہے فریب کھانے کی اے غم زندگی نہ ہو ناراض مجھ کو عادت ہے مسکرانے کی ظلمتوں سے نہ ڈر کہ رستے میں روشنی ہے شراب خانے کی آ ترے گیسوؤں کو پیار کروں رات ہے مشعلیں جلانے کی کس نے ساغر عدمؔ بلند کیا تھم گئیں گردشیں زمانے کی
دن گزر جائیں گے سرکار کوئی بات نہیں زخم بھر جائیں گے سرکار کوئی بات نہیں آپ کا شہر اگر بار سمجھتا ہے ہمیں کوچ کر جائیں گے سرکار کوئی بات نہیں آپ کے جور کا جب ذکر چھڑا محشر میں ہم مکر جائیں گے سرکار کوئی بات نہیں رو کے جینے میں بھلا کون سی شیرینی ہے ہنس کے مر جائیں گے سرکار کوئی ...
گوریوں کالیوں نے مار دیا جامنوں والیوں نے مار دیا انگ ہیں یا رکابیاں دھن کی موہنی تھالیوں نے مار دیا گنگناتے حسین کانوں کی ڈولتی بالیوں نے مار دیا اودے اودے سحاب سے آنچل رنگ کی جالیوں نے مار دیا زلف کی نکہتوں نے جاں لے لی ہونٹ کی لالیوں نے مار دیا اف وہ پیاسے معززین ...
آگہی میں اک خلا موجود ہے اس کا مطلب ہے خدا موجود ہے ہے یقیناً کچھ مگر واضح نہیں آپ کی آنکھوں میں کیا موجود ہے بانکپن میں اور کوئی شے نہیں سادگی کی انتہا موجود ہے ہے مکمل بادشاہی کی دلیل گھر میں گر اک بوریا موجود ہے شوقیہ کوئی نہیں ہوتا غلط اس میں کچھ تیری رضا موجود ہے اس لیے ...
وہ باتیں تری وہ فسانے ترے شگفتہ شگفتہ بہانے ترے بس اک داغ سجدہ مری کائنات جبینیں تری آستانے ترے مظالم ترے عافیت آفریں مراسم سہانے سہانے ترے فقیروں کی جھولی نہ ہوگی تہی ہیں بھرپور جب تک خزانے ترے دلوں کو جراحت کا لطف آ گیا لگے ہیں کچھ ایسے نشانے ترے اسیروں کی دولت اسیری کا ...
ستاروں کے آگے جو آبادیاں ہیں تری زلف کی گم شدہ وادیاں ہیں زمانہ بھی کیا رونقوں کی جگہ ہے کہیں رونا دھونا کہیں شادیاں ہیں تری کاکلیں ہی نہیں سبز پریاں مری آرزوئیں بھی شہزادیاں ہیں بڑی شے ہے وابستگی دو دلوں کی یہ پابندیاں ہی تو آزادیاں ہیں جہاں قدر ہے کچھ نہ کچھ آدمی کی وہ کیا ...