قومی زبان

زندگی تو بھی بے وفا نکلی

زندگی تو بھی بے وفا نکلی کیا سمجھتے تھے اور کیا نکلی گھر کے دیوار و در بھی کانپ گئے دل کے گوشے سے جب صدا نکلی رو پڑی وہ ہوئی اداس بہت میرے آنگن سے جب صبا نکلی تار نازک تھے دل کے ٹوٹ گئے چھیڑ کر جب وہ دل ربا نکلی ہم عنایت جسے سمجھ کے چلے وہ بھی آخر کڑی سزا نکلی دوستوں نے کئے کرم ...

مزید پڑھیے

ظرف ہے کس میں کہ وہ سارا جہاں لے کر چلے

ظرف ہے کس میں کہ وہ سارا جہاں لے کر چلے ہم تو دنیا سے فقط اک درد جاں لے کر چلے آدمی کو چاہئے توفیق چلنے کی فقط کچھ نہیں تو گزرے وقتوں کا دھواں لے کر چلے جب بہاریں بے وفا نکلیں تو کس امید پر انتظار گل کی حسرت باغباں لے کر چلے کب مقدر کا کہاں کیسا کوئی منظر بنے ہم ہتھیلی پر لکیروں ...

مزید پڑھیے

زندگی ایک خواب لگتی ہے

زندگی ایک خواب لگتی ہے ہر حقیقت سراب لگتی ہے ساعت قرب تھی کہ موج بہار یاد اس کی گلاب لگتی ہے داستاں میری سن سکو تو سنو درد و غم کی کتاب لگتی ہے اس قدر پیار اس قدر نفرت تیری فطرت حباب لگتی ہے زیست لٹکی ہے اب صلیبوں پر ہر تمنا عذاب لگتی ہے چہرے کمھلا رہے ہیں کلیوں کے نیت گل خراب ...

مزید پڑھیے

قید سے پہلے بھی آزادی مری خطرے میں تھی (ردیف .. ا)

قید سے پہلے بھی آزادی مری خطرے میں تھی آشیانہ ہی مرا صورت نمائے دام تھا واہمہ خلاق آزادی کا حسن افزا سرور ہر فریب رنگ کا پہلے گلستاں نام تھا ضعف آہوں پر بھی غالب ہو چلا تھا اے اجل تو نہ آتی تو یہ میرا آخری پیغام تھا دیدۂ خوں بے خودی کے ہاتھ سے چھوٹا ہوا اک جام تھا

مزید پڑھیے

قید سے پہلے بھی آزادی مری خطرے میں تھی (ردیف .. ا)

قید سے پہلے بھی آزادی مری خطرے میں تھی آشیانہ ہی مرا صورت نمائے دام تھا واہمہ خلاق اور آزادی حسن افزا سرور ہر فریب رنگ کا پہلے گلستاں نام تھا ضعف آہوں پر بھی غالب ہو چلا تھا اے اجل تو نہ آتی تو یہ میرا آخری پیغام تھا دیدۂ خوننابہ افشاں میرا ان کے سامنے بے خودی کے ہاتھ سے چھوٹا ...

مزید پڑھیے

ہزاروں طرح اپنا درد ہم اس کو سناتے ہیں

ہزاروں طرح اپنا درد ہم اس کو سناتے ہیں مگر تصویر کو ہر حال میں تصویر پاتے ہیں بجھا دے اے ہوائے تند مدفن کے چراغوں کو سیہ بختی میں یہ اک بد نما دھبہ لگاتے ہیں مرتب کر گیا اک عشق کا قانون دنیا میں وہ دیوانے ہیں جو مجنوں کو دیوانہ بتاتے ہیں اسی محفل سے میں روتا ہوا آیا ہوں اے ...

مزید پڑھیے

وہ کہاں ملے وہ کہیں ملے

وہ کہاں ملے وہ کہیں ملے وہ مکاں ملے وہ مکیں ملے تو کہ حادثوں کا گلہ نہیں وہ جہاں ملا تھا وہیں ملے تھا شعار دل میں تو دم بہ دم جو ملائے خندہ جبیں ملے وہ نہیں ملے گا تو کیا ہوا وہ گلی شہر وہ زمیں ملے

مزید پڑھیے
صفحہ 5840 سے 6203